[1]تمہارے رفیق علیہ السلام پر جنون کا الزام غلط ہے:یعنی بعثت سے پہلے چالیس سال تک وہ تمہارے اور تم اس کے ساتھ رہے۔ اتنی طویل مدّت تک اس کے تمام کھلے چھپے احوال کا تجربہ کیا۔ کبھی ایک مرتبہ اس کا جھوٹ یا فریب یا دیوانہ پن کی بات نہ دیکھی۔ ہمیشہ اس کے صدق و امانت اور عقل و دانائی کے معترف رہے۔ اب بلاوجہ اسے جھوٹا یا دیوانہ کیونکر کہہ سکتے ہو۔ کیا یہ وہ ہی تمہارا رفیق نہیں ہے جس کے رتی رتی احوال کا تم پہلے سے تجربہ رکھتے ہو۔ اب اس کو دیوانہ کہنا بجز دیوانگی کے کچھ نہیں۔