Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fajr — Ayah 26

89:26
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٞ ٢٦
اور نہ باندھ کر رکھے اُس کا سا باندھنا کوئی1
Footnotes
  • [1] مجرموں کو اللہ کا خاص عذاب:یعنی اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دیگا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیزؒ لکھتے ہیں کہ "اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی ۔نہ آگ نہ دوزخ کے مؤکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہونگے، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے، اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہو گا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دیگا جو عذاب روحانی ہے۔ اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہر چند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق ڈالیں گے اور زنجیروں سے جکڑیں گے اور دوزخ کے دروازے بند کرکے اوپر سے سرپوش رکھدیں گے، لیکن ان کی عقل اور خیال کو بند نہ کرسکیں گے اور عقل و خیال کی عادت ہے کہ بہت سی باتوں کی طرف التفات کرتا ہے اور ان میں سے بعض باتیں دوسری باتوں کے لئے حجاب ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے عین قید کی تنگی میں انسان کو عقلی اور خیالی وسعت حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اس شخص کے کہ اللہ تعالیٰ عقل و خیال کو ادھر ادھر جانے سے روک دے اور بالکل ہمہ تن دکھ درد ہی کی طرف متوجہ رکھے۔ تو ایسی قید بدنی قید سے ہزاروں درجے سخت ہے۔ اسی لئے مجنوں سودائیوں کو عین باغوں اور جنگلوں کی سیر کے وقت تنگی اور گھبراہٹ وہم و خیال کے سبب سے پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ باغ اور وسیع جنگل اس کی نظر میں تنگ معلوم ہوتے ہیں۔