Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Fajr — Ayah 4

89:4
وَٱلَّيۡلِ إِذَا يَسۡرِ ٤
اور اس رات کی جب رات کو چلے1
Footnotes
  • [1] ایّام اور اوقات کی قسمیں:حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "عید قرباں کی فجر بڑا حج ادا ہوتا ہے اور دس رات اُس سے پہلے۔ اور جفت اور طاق رمضان کی آخری (عشرہ) دہائی میں ہے۔ اور جب رات کو چلے یعنی پیغمبر معراج کو"۔ یہ سب اوقات متبرک تھے اس لئے ان کی قسم کھائی۔ (تنبیہ) وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کے معنی عموماً مفسرین نے "رات کے گزرنے" یا "اس کی تاریکی پھیلنے" کے لئے ہیں۔ گویا صبح کی قسم کے مقابلے میں رات کے جانے یا آنے کی قسم کھائی۔ جیسا کہ جفت کے مقابل طاق کی قسم کھائی گئ ہے۔ اور لَیَالٍ عَشْرٍ سے بھی ممکن ہے مطلق دس راتیں مراد ہوں کیونکہ اس کے افرادومصادیق میں بھی تقابل پایا جاتا ہے۔ مہینہ کے شروع کی دس راتیں اوّل روشن ہوتی ہیں پھر تاریک اور اخیر کی دس راتیں ابتداء میں تاریک رہتی ہیں پھر روشن ہوتی ہیں اور درمیانی دس راتوں کا حال ان دونوں سے جداگانہ ہے۔ گویا اس اختلاف و تقابل سے اشارہ فرمادیا کہ آدمی کو عیش و آرام یا مصیبت اور تنگی یا فراخی کی جو حالت پیش آئے مطمئن نہ ہوجائے اور یوں نہ سمجھے کہ اب اس کے خلاف دوسری حالت پیش نہ آئیگی اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ حق تعالیٰ خالق اضداد ہے جس طرح وہ آفاق میں ایک ضد کے مقابل دوسری ضد کو لاتا ہے۔ ایسے ہی تمہارے حالات و کوائف کو بھی اپنی حکمت و مصلحت کے موافق ادل بدل کرتا رہتا ہے چنانچہ آگے جو واقعات و مضامین مذکور ہیں ان میں اسی اصول پر متنبہ فرمایا ہے۔ (تنبیہ دوم) اس آیت کی تفسیر میں دو حدیثیں مرفوع آئی ہیں جابرؓ کی اور عمران بن حصینؓ کی، حافظ ابن کثیرؒ پہلی کی نسبت لکھتے ہیں وھٰذا اسنادٌ رجالہ لابأس بھم وعندی ان المتن فی رفعہ نکارۃ اور دوسری کی نسبت فرماتے ہیں وعندی ان وقفہ علی عمران بن حصین اشبہ واللّٰہ اعلم ۔