Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Al-Balad — Ayah 2

90:2
وَأَنتَ حِلُّۢ بِهَٰذَا ٱلۡبَلَدِ ٢
اور تجھ پر قید نہیں رہے گی اس شہر میں1
Footnotes
  • [1] حرم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی رعایت:یعنی مکہ میں ہر شخص کو لڑائی کی ممانعت ہے مگر آنحضرت ﷺ کے لئے فتح مکہ کے دن یہ ممانعت نہیں رہی تھی جو کوئی آپ سے لڑا اس کو مارا۔ اور بعض سنگین مجرموں کو خاص کعبہ کی دیوار کے پاس قتل کیا گیا پھر اس دن کے بعد سے وہی ممانعت قیامت تک کے لئے قائم ہو گئ ۔ چونکہ اس آیت میں مکہ کی قسم کھا کر ان شدائد اور سختیوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے اور اس وقت دنیا کا بزرگ ترین انسان اسی شہر مکہ میں دشمنوں کی طرف سے زہرہ گداز سختیاں جھیل رہا تھا۔ اس لئے درمیان میں بطور جملہ معرضہ وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ فرما کر تسلی کر دی کہ اگرچہ آج آپ کا احترام اس شہر کے جاہلوں میں نہیں ہے۔ لیکن ایک وقت آیا چاہتا ہے جب آپ کا اسی شہر میں فاتحانہ داخلہ ہوگا۔ اور اس مقدس مقام کی ابدی تطہیر و تقدیس کے لئے مجرموں کو سزا دینے کی بھی آپ کو اجازت ہو گی، یہ پیشین گوئی ۸ھ میں خدا کے فضل سے پوری ہوئی (تنبیہ) بعض نے وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الۡبَلَدِ کے معنی وانت نازل کے لئے ہیں۔ یعنی میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں بحالیکہ آپ اس شہر میں پیدا کیے گئے اور قیام پذیر ہوئے۔