Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah Ad-Duhaa — Ayah 3

93:3
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ ٣
نہ رخصت کر دیا تجھ کو تیرے رب نے اور نہ بیزار ہوا1
Footnotes
  • [1] فترت وحی اور کفّار کے طعنے:یعنی روایات صحیحہ میں ہے کہ جبریلؑ دیر تک رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ آئے (یعنی وحی قرآنی بند رہی) مشرکین کہنے لگے کہ (لیجئے) محمد (ﷺ) کو اس کے رب نے رخصت کر دیا۔ اس کے جواب میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ میراگمان یہ ہے (واللہ اعلم) کہ یہ زمانہ فترۃ الوحی کا ہے جب سورۃ "اقراء" کی ابتدائی آیات نازل ہونے کے بعد ایک طویل مدت تک وحی رکی رہی تھی اور حضور ﷺ خود اس فترت کے زمانہ میں سخت مغموم و مضطرب رہتے تھے، تاآنکہ فرشتہ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یٰۤاَیُّہَا الۡمُدَّثِّرُ (مدثر۔۱) کا خطاب سنایا! اغلب ہے کہ اس وقت مخالفوں نے اس طرح کی چہ میگوئیاں کی ہوں۔ چنانچہ ابن کثیرؒ نے محمد بن اسحاق وغیرہ سے جو الفاظ نقل کیے ہیں وہ اسی احتمال کی تاکید کرتے ہیں۔ ممکن ہے اسی دوران میں وہ قصہ بھی پیش آیا ہو جو بعض احادیث صحیحہ میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بیماری کی وجہ سے دو تین رات نہ اٹھ سکے، تو ایک (خبیث)عورت کہنے لگی۔ اے محمد! (ﷺ) معلوم ہوتا ہے، تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا ہے (العیاذباللہ) غرض ان سب خرافات کا جواب سورۃ "والضحٰی" میں دیا گیا ہے۔ اللہ آپ سے ناراض نہیں ہے: پہلے قسم کھائی دھوپ چڑھتے وقت کی اور اندھیری رات کی۔ پھر فرمایا کہ (دشمنوں کے سب خیالات غلط ہیں) نہ تیرا رب تجھ سے ناراض اور بیزار ہوا نہ تجھ کو رخصت کیا۔ بلکہ جس طرح ظاہر میں وہ اپنی قدرت و حکمت کے مختلف نشان ظاہر کرتا، اور دن کے پیچھے رات اور رات کے پیچھے دن کو لاتا ہے، یہی کیفیت باطنی حالات کی سمجھو۔ اگر سورج کی دھوپ کے بعد رات کی تاریکی کا آنا اللہ کی خفگی اور ناراضی کی دلیل نہیں۔ اور نہ اس کا ثبوت ہے کہ اس کے بعد دن کا اجالا کبھی نہ ہوگا۔ تو چند روز نور وحی کے رکے رہنے سے یہ کیونکر سمجھ لیا جائے کہ آج کل خدا اپنے منتخب کیے ہوئے پیغمبر سے خفا اور ناراض ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے وحی کا دروازہ بند کر دیا ہے۔ ایسا کہنا تو خدا کے علم محیط اور حکمت بالغہ پر اعتراض کرنا ہے۔ گویا اسے خبر نہ تھی کہ جس کو میں نبی بنا رہا ہوں وہ آئندہ چل کر اس کا اہل ثابت نہ ہوگا؟ العیاذباللہ۔