Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani)

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Shaykh al-Hind Mahmud al-Hasan(with Tafsir E Usmani) translation for Surah At-Tin — Ayah 7

95:7
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعۡدُ بِٱلدِّينِ ٧
پھر تو اُسکے پیچھے کیوں جھٹلائے بدلا ملنے کو1
Footnotes
  • [1] ایمان اور عمل صالح پر بے انتہا اجر:یعنی او آدمی ! ان دلائل کے بعد کیا سبب ہے جس کی بناء پر سلسلہ جزاء و سزا کا انکار کیا جا سکتا ہے؟ یا یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہو گا۔ یعنی ایسے صاف بیانات کے بعد کیا چیز ہے جو منکرین کو جزاء کے معاملہ میں تمہاری تکذیب پر آمادہ کرتی ہے۔ خیال کرو! انسان کو اللہ نے پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اس کا قوام ایسی ترکیب سے بنایا کہ اگر چاہے تو نیکی اور بھلائی میں ترقی کرکے فرشتوں سے آگے نکل جائے کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہ کر سکے، چنانچہ اس کے کامل نمونے دنیا نے شام، بیت المقدس، کوہ طور اور مکہ معظمہ میں اپنے اپنے وقت پر دیکھ لئے جن کے نقش قدم پر اگر آدمی چلیں تو انسانی کمالات اور دارین کے کامیابی کے اعلٰی ترین مقامات پر پہنچ جائیں۔ لیکن انسان خود اپنی بدتمیزی اور بدعملی سے ذلت و ہلاکت کے گڑھے میں گرتا اور اپنی پیدائشی بزرگی کو گنوا دیتا ہے۔ کسی ایماندار اور نیکوکار انسان کو اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ نیچے نہیں گراتا۔ بلکہ اس کے تھوڑے عمل کا بے اندازہ صلہ مرحمت فرماتا ہے۔ کیا ان حالات کے سننے کے بعد بھی کسی کا منہ ہے جو دین فطرت کے اصول اور جزاء و سزا کے ایسے معقول قاعدوں کو جھٹلا سکے؟ ہاں ایک ہی صورت تکذیب و انکار کی ہوسکتی ہے کہ دنیا کو یونہی ایک بے سرا کارخانہ فرض کر لیا جائے جس پر نہ کسی کی حکومت ہو نہ یہاں کوئی آئین و قانون جاری ہو، نہ کسی بھلے برے پر کوئی گرفت کرسکے، اس کا جواب آگے دیتے ہیں۔ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ ۔