اسکنوھن من ....................................
یہ آخری بیان ہے جس میں گھروں میں رہائش کے مسئلے کو لیا گیا ہے اور عدت کے دوران نفقہ کے مسئلہ کو لیا گیا ہے جو بھی عدت کی مدت قرار پائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جس قسم کی رہائش بھی ہو ، خاوند کو چاہئے کہ وہ بیوی کو فراہم کرے۔ جس طرح کی رہائش میں وہ خود رہتا ہے اور جس قدر وہ اپنی مالی پوزیشن کے مطابق فراہم کرسکتا ہے ۔ باہم برتاﺅ میں نقصان پہنچانے کا ارادہ نہ ہو۔ نہ مکان میں تنگی کی جائے ، نہ عزت میں کمی کی جائے ، اور نہ دوسرے معاملات میں مثلاً گفتگو وغیرہ میں۔ حاملہ عورتوں کے نفقے کو مخصوص طور پر ذکر کیا گیا حالانکہ ہر قسم کی عدت گزارنے والی عورتوں کے لئے نفقہ واجب ہے۔ کیونکہ حمل میں مدت بعض اوقات طویل ہوجاتی ہے اور یہ خیال ہوسکتا ہے کہ تین مہینے ہی نفقہ واجب ہے یا حمل اگر طلاق کے بعد صرف مختصر ترین وقت وضع ہوجائے تو پھر یہ وہم ہوسکتا ہے کہ شاید زیادہ مدت کے لئے نفقہ دیتا ہوگا۔ لہٰذا اس کا تعین کردیا گیا یعنی جب تک قانونی مدت عدت ختم نہیں ہوجاتی خواہ مختصر ہو یا طویل۔
اس کے بعد دودھ پلانے کے مسئلہ کی تفصیلات دی گئیں۔ دودھ پلانا بغیر معاوضہ کے ماں کی ذمہ داری نہیں قرار دی گئی۔ جب تک وہ دونوں کے مشترکہ بچے کو دودھ پلارہی ہے تو اس کا حق ہے کہ اسے اس خدمت کا معاوضہ ملے کہ وہ زندہ رہ سکے اور بچے کے لئے دودھ بھی جاری ہو۔ یہ ہیں اسلامی نظام قانون کی وہ رعائتیں جو ماں کو دی گئیں۔ ان رعائیتوں کے ساتھ دونوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ وہ اس بچے کے معاملات کو باہم مشورہ سے طے کریں۔ اور بچے کی مصلحت کو پیش نظر رکھیں کہ وہ دونوں کے درمیان ایک امانت ہے۔ یہ نہ ہو کہ دونوں کی مشترکہ زندگی کی ناکامی اس بچے کے ئے مصیبت بن جائے۔ جس کا کوئی قصور نہیں ہے۔
یہ ہے وہ حسن سلوک جس کی طرف دونوں کو دعوت دی جاتی ہے۔ اگر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور رضاعت اور اس کے اجر کے بارے میں ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہ ہوسکا تو بچے کو تو بہرحال دودھ پلانا ہے ، کوئی اور پلائے گی۔
فسترضع لہ اخری (56 : 6) ” تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلائے گی “۔ نہ ماں کا اعتراض ہوگا اور نہ بچے کو دودھ سے محروم کرکے مار دیا جائے گا کیونکہ ان کی مشرکہ زندگی تحلیل ہوئی اور پھر انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سختی کی ، بچے کا اس میں کوئی قصور نہیں تھا۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.