اب یہاں انداز کلام حاکیت سے خطاب کی طرف آجاتا ہے ، اور جن دو ازواج نے یہ کام کیا تھا ، ان سے خطاب کیا جاتا ہے۔ گویا بات ان کے سامنے ہورہی ہے۔
ان تتوبا ........................ ذلک ظھیر (66 : 4) ” اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرائیل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں “۔
آغاز خطاب میں ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ توبہ کریں تاکہ ان کے دل اللہ کی طرف مائل ہوجائیں کیونکہ ان کے دل اللہ سے دور ہوگئے تھے۔ جب یہ دعوت دے دی جاتی ہے تو پھر ان پر ایک خوفناک تنقید کی جاتی ہے۔ نہایت رعب دار آواز میں :
اس زبردست تنقید سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثہ اور واقعہ جو بھی تھا مگر رسول اللہ کے قلب مبارک پر اس کا گہرا اثر تھا۔ چناچہ اللہ کو اعلان کرنا پڑا کہ اللہ ، ملائکہ اور صالح مومنین اس کے لئے کافی طرفدار ہیں۔ اس اعلان سے ، حضور اکرم ﷺ کا غبار خاطر دور ہوجاتا ہے اور آپ مطمئن ہوجاتے ہیں۔
معلوم یہ ہوتا ہے کہ واقعہ جو بھی ہو ، لیکن حضور ﷺ پر اس واقعہ کا گہرا اثر تھا۔ حضور اپنے گھروں میں اس قسم کے ماحول کی توقع نہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے پڑوسی انصاری نے ، اس واقعہ کی جو رپورٹ دی ، ہ اس قدر خوفناک تھی کہ اس کے قول کے مطابق غسانیوں کے حملے سے بھی بڑی بات ہوگئی ہے۔ غسانیوں کی اس وقت شام پر حکومت تھی۔ اور وہ سلطنت روم کے موالی تھے۔ ان کے ان کے ساتھی دوستی کے معاہدے تھے۔ اس دور میں مدینہ پر غسانیوں کا حملہ آور ہونا بہت خطرناک بات تھی۔ لیکن مسلمانوں کے لئے رسول اللہ کا پریشان اور بےقرار ہونا غسانیوں کے حملے سے بھی بڑی بات تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ علیہ وسلم کے گھرنے کی سلامتی سب سے بڑی بات تھی۔ اور آپ کا اضطراب لوگوں کے لئے ناقابل برداشت تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خیر القرون کے یہ لوگ معاملات کو کس زاویہ سے دیکھتے تھے۔ جس طرح اس انصاری نے اس واقعہ کو ایک عظیم واقعہ سمجھا۔ اسی طرح اللہ نے بھی اسے سمجھا ان حضرات کی سوچ خدا اور رسول کی سوچ کی سمت اختیار کرچکی تھی۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.