فلما راوہ .................... تدعون
” جب انہوں نے اسے دیکھ لیا اور وہ ان کے سامنے ہے۔ ان کو توقع ہی نہ تھی کہ ان کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اب تو ان کے چہروں کی شکل بگڑ رہی ہے۔ غم کے بادل ہیں ان چہروں پر۔ اب ان کو یوں سرزنش کی جاتی ہے۔
ھذا الذی ................ تدعون (76 : 72) ” یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کرتے تھے “۔ یہ ہے حاضر اور قریب۔ اور دعویٰ تمہارا یہ تھا کہ قیامت کہاں ہے ؟
یہ انداز کہ ہونے والے واقعات کو قرآن اس طرح پیش کرتا ہے کہ گویا ہوگئے ، یہ ان کے شکوک و شبہات کے جواب میں کیا ہی خوب انداز ہے۔ ان کو ایک شعوری جھٹکا دیا جاتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت تو برپا ہے۔ اور تکذیب کرنے والا اور شک کرنے والا کلام ربانی کے سامنے مبہوت رہ جاتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ منکر ہے بلکہ منظر کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔
اور یہ تصویر کشی اثر انداز اس لئے ہوئی ہے کہ اللہ کے علم میں ہیں وہ ہونے والے مناظر ، گویا فی الواقعہ وہ مناظر قائم ہیں ، کیونکہ اللہ کا علم زمان ومکان کے قید کے اندر محدود نہیں۔ یہ ماضی ، حال اور مستقبل تو انسان کے لئے ہیں۔ آج اگر اللہ حکم دے تو یہ شاید ہم اسی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح اچانک منکرین مخاطبین کو دنیا سے آخرت میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اور شک وشبہ کی بجائے ان کا سامانا کرادیا جاتا ہے۔ اس حقیقت کے سامنے ان کو لایا جاتا ہے جو اللہ کے علم میں قائم ہے ، اگر پردہ اٹھادے تو ہم بھی دیکھ لیں ، لیکن اللہ یہاں صرف اس کی تصویر دکھاتا ہے۔
مشرکین مکہ اس قدر احمق ، خوش فہم اور معاند تھے کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور مٹھی بھر مومنین کے بارے میں یہ تمنائیں کرتے تھے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور یہ مومنین سے بےغم ہوجائیں۔ اور وہ ایک دوسرے کو بھی نصیحت کیا کرتے تھے کہ بھائی صبر کرو ، چند لوگ ہیں مرکھپ جائیں گے۔ اس لئے یہ انتشار خود بخود ختم ہوجائے گا جو قریش کی صفوں میں انہوں نے برپا کردیا اور بعض اوقات تو وہ اس زعم میں مبتلا ہوجاتے تھے کہ اللہ عنقریب محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردے گا۔ اس لئے کہ وہ صابی اور گمراہ ہیں کیونکہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اب حشرونشر کے اس میدان کے بعد ان کو کہا جاتا ہے تمہاری یہ تمنائیں تو اپنی جگہ ، لیکن اگر محمد ﷺ اور ان کے ساتھی ہلاک کردیئے گئے تو تم عذاب الیم سے کس طرح بچ جاﺅ گے۔ تم اپنے رویہ اور اپنے عقائد اور اپنے اعمال پر غور کرو ۔ اگر یہ پیغمبر اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ہلاک ہوگئے تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوگا ؟
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.