قرآن کریم اس بات کی صراحت کرتا ہے کہ یہ سب نظام تمہاری خاطر کیا گیا۔
متاعا ................ لانعامکم (33:79) ” سامان زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے “۔ اس سے دو باتوں کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ ایک یہ کہ اللہ نے اس کائنات کے نظام کو چلانے کے لئے عظیم الشان تدابیر اختیار کی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس نظام کے اندر ہر چیز ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق نہایت صحیح اندازے سے بنائی گئی ہے۔ آسمانوں کو موجودہ شکل دینا ، زمین کو اس شکل و صورت میں تیار کرنا ، اور موجودہ نظام اتفاقاً پیدا نہیں ہوگیا۔ بلکہ پہلے سے مقدر اور مرتب تھا۔ اور اس کی ایک ایک چیز کو ایک حساب اور ایک اندازے سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی مقصد کو سامنے رکھ کر پیدا کیا گیا ہے کہ اس زمین پر حضرت انسان نے آکر بسنا ہے۔ اس کا وجود ، اس کی نشوونما ، اور اس کی ترقی کے لئے یہاں بیشمار سازگار حالات پیدا کیے گئے ہیں اور ان کو اس نظام کے بنیادی ڈھانچے اور نقشے کے اندر رکھ دیا گیا ہے۔ پورا نظام شمسی اس طرح بنایا گیا ہے اور اس زمین کے اندر تہ یہ امور علی الخصوص ملحوظ ہیں۔
قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ اصل حقائق کی طرف ایک مجمل اشارات کرتا ہے ، جن میں اصل بات اور حقیقت بھی آجاتی ہے اور ایک عام سے عام آدمی بھی قرآنی مفہوم کو پالیتا ہے۔ یہاں قرآن کریم نے جن سہولیات اور سازگار چیزوں کی طرف اشارہ کیا وہ آسمانوں کی تخلیق وتعمیر ، رات کا چھانا اور پرسکون ماحول ، دن کا ظہور ، اور دوڑ دھوپ ، زمین کا بچھانا اور سازگار بنانا ، پانی کا بہانا اور نباتات کا اگانا اور پہاڑوں کا جمانا اور انسانوں اور حیوانوں کے لئے سامان زیست فراہم کرنا ، ان اشارات سے ایک طرف تو اللہ کی تدبیر کی حکمت اور تخلیق کا حکیمانہ نظام نظر آتا ہے اور یہ حقائق وہ مظاہر ہیں جن کو ہر شخص دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ہر سطح اور ہر معاشرے کا انسان ان کو سمجھتا ہے۔ اور ان کے سمجھنے کے لئے کسی بڑے درجہ علم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ بس ایک انسان ہو ، جہاں بھی ہو ، جس زمانے میں ہو ، وہ ان اشارات کو سمجھتا ہے۔
لیکن اس عمومی سطح کے پس پشت اور گہرائی کے ساتھ اگر غور کیا جائے تو اس سطح کے نیچے عظیم حقائق ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس کائنات کی تخلیق کے منصوبے میں گہری منصوبہ بندی ہے ، اور اس کا نظام محض بخت واتفاق پر نہیں چل رہا ہے۔ اس کائنات کی حقیقت اس بات کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ محض اتفاقاً اس قدر حکیمانہ فارمولا بن جانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جو عجیب و غریب ہے اور جو نہایت حکیمانہ ہے۔
جس کہکشاں میں ہم رہتے ہیں جسے شمسی کہکشاں کہا جاتا ہے ، ہماری زمین اس کہکشاں کا ایک سیارہ ہے۔ اس کی تنظیم اور اس کا نظام گردش ایک عجیب نظام ہے جو اس جیسی کروڑوں کہکشانوں میں نہیں ہے۔ پھر یہزمین تو تمام سیاروں میں سے ایک منفرد انداز کا سیارہ ہے ، سورج سے اس کا فاصلہ ، اس کے فضائی حالات اور اس کی گردش ایسے ہیں کہ اسے انسانی زندگی کے اہل بناتے ہیں۔ آج تک انسان نے اس وسیع و عریض کائنات میں کوئی دوسرا سیارہ معلوم نہیں کیا جس میں ایسی ہی زندگی ہو ، اور جس کے اندر ہزاروں لاکھوں ایسے عوامل ہیں جو انسانی زندگی کے ممدود ومعاون ہوں۔
” اس لئے کہ اسباب حیات ایک ایسے سیارے میں فراہم ہوتے ہیں جس کا حجم مناسب ہو ، جو سورج سے ایک مناسب دوری پر ہو۔ اور اس کے عناصر کی ترکیب ایسی ہو جس کے اندر زندہ حرکت میں آسکے “۔
” سازگار حجم کا مناسب ہونا اس لئے ضروری ہے کیونکہ کسی سیارے کے اردگرد کی فضا کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ اس سیارے کا حجم کتنا ہے اور اس میں جاذبیت کی قوت کس قدر ہے “۔
” اور معتدل دوری اس لئے ضروری ہے کہ جو سیارے سورج کے زیادہ قریب ہیں۔ وہ اس قدر گرم ہوتے ہیں کہ ان میں اجسام کے اجزاء اپنی جگہ نہیں ٹھہر سکتے اور جو سیارے سورج سے بہت دور ہوتے ہیں وہ اس قدر سرد اور ٹھوس ہوتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی جسم پھل پھول نہیں سکتا “۔
” پھر کسی سیارے کی ترکیب ایسے عناصر سے ہونا ضروری ہے جس کے اندر زندگی ممکن ہو اور پھل پھول سکے ، کیونکہ نباتات کے لئے اور حیوانات کے لئے وہ عناصر ضروری ہیں جو اس زمین میں رکھے گئے ہیں “۔
” پھر زمین کو سورج سے اس قدر دور رکھا گیا ہے کہ اگر اس کا فاصلہ ذرا کم وبیش ہوجائے تو اس پر زندگی ممکن ہی نہ ہو۔ اور اس کی تفصیلات ہم اب اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج تک ہمیں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس زمین کے علاوہ اور بھی کوئی سیارہ کسی سورج کے گرد ایسا ہے “۔ (بیسویں صدی کے مفکرین کے افکار ، استاد عقاد ، ص 32) ۔
یہ حقائق کہ یہ کائنات ایک خاص نظم ، تدبیر اور منصوبے کے مطابق بنائی گئی ہے اور اس کے اندر انسان کی ایک مخصوص حیثیت ہے۔ انسان کو اس نتیجے پر پہنچنے کے لئے آمادہ کرتے ہیں کہ قیام قیامت ایک حقیقت ہے اور ایک دن ایسا آنے والا ہے کہ انسان سے حساب و کتاب لیا جائے گا اور اس کے اعمال پر اسے جزاء وسزا دی جائے گی۔ اگر اس کائنات اور اس میں انسانی زندگی کی تخلیق ایک حکیمانہ انداز کے مطابق ہے تو پھر لازماً انسان اس نتیجے تک پہنچے گا کہ ایک دن اس زندگی کا خاتمہ ہوگا اور انسان اپنے اعمال کی جزاء وسزا سے دوچار ہوگا۔ یہ بات انتہائی غیر معقول ، اور غیر منصفانہ ہوگی اس زندگی کا خاتمہ ایسا ہی ہو کہ ظالم ، بدکار سزا پانے سے بچ جائیں اور مظلوم دنیا میں مشکلات جھیلنے کے بعد یونہی ختم کردیئے جائیں۔ اس قسم کے عقائد ونظریات اس حکمت ، اس منصوبہ بندی اور اس تدبیر کے خلاف ہیں جو اس کائنات کی تخلیق اور تعمیر میں عیاں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ان حقائق کے بعد اب سورت کے مرکزی مضمون یعنی قیام قیامت کو لیا جاتا ہے یعنی وہ ہنگامہ عظیم جو برپا ہوگا اور پھر اس جہاں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس سے قبل ذہنوں کو اس عقیدے کے قبول کرنے کے لئے تیار کرلیا گیا تھا۔ ذہن قبولیت کے لئے تیار تھا۔ لہٰذا یہ ذکر نہایت ہی مناسب وقت میں ہوا۔
QUL supports exporting tafsir content in both JSON and SQLite formats.
Tafsir text may include <html> tags for formatting such as <b>,
<i>, etc.
Note:
Tafsir content may span multiple ayahs. QUL exports both the tafsir text and the ayahs it applies to.
Example JSON Format:
{
"2:3": {
"text": "tafisr text.",
"ayah_keys": ["2:3", "2:4"]
},
"2:4": "2:3"
}
"ayah_key" in "surah:ayah", e.g. "2:3" means
3rd ayah of Surah Al-Baqarah.
text: the tafsir content (can include HTML)ayah_keys: an array of ayah keys this tafsir applies toayah_key where the tafsir text can be found.
ayah_key: the ayah for which this record applies.group_ayah_key: the ayah key that contains the main tafsir text (used for shared tafsir).
from_ayah / to_ayah: start and end ayah keys for convenience (optional).ayah_keys: comma-separated list of all ayah keys that this tafsir covers.text: tafsir text. If blank, use the text from the group_ayah_key.