Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Kawthar — Ayah 3

108:3
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلۡأَبۡتَرُ ٣
تمہارا دُشمن1 ہی جَڑ کٹا ہے۔2
Footnotes
  • [1] ھُوَ الْاَبْتَر۔”وہی اَبْتَر ہے“ فرمایا گیا ہے ، یعنی وہ آپ کو ابتر کہتا ہے، لیکن حقیقت  میں اَبْتَر وہ خود ہے۔ ابترکی کچھ تشریح ہم اِس  سے پہلے اس سورۃ کے دیباچے میں کر چکے ہیں۔ یہ لفظ بَتَر سے ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ مگر محاورے میں یہ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حدیث میں نماز کی اُس رکعت کو جس کے ساتھ کوئی دوسری رکعت نہ پڑھی جائے بُتَیراء کہا گیا ہے ، یعنی اکیلی رکعت۔ ایک اور حدیث میں ہے کلّ امر ذی بالٍ لایُبدأ فیہ بحمد اللہ فھو ا بتر۔” ہر وہ کام جو کوئی اہمیت رکھتا ہو، اللہ کی حمد کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ابتر ہے“۔ یعنی اس کی جَڑ کٹی ہوئی ہے ، اسے کوئی استحکام نصیب نہیں ہے، یا اس کا انجام اچھا نہیں ہے ۔ نامراد آدمی کو بھی ابتر کہتے ہیں۔ ذرائع و وسائل سے محروم ہو جانے والا بھی ابتر کہلاتا ہے۔ جس شخص کے لیے کسی خیر اور بھلائی کی توقع باقی نہ رہی ہو اور جس کی کامیابی کی سب امیدیں منقطع ہو گئی ہوں  وہ بھی ابتر ہے۔ جو آدمی اپنے کنبے برادری اور اعوان و انصار سے کٹ کر اکیلا  رہ گیا ہو وہ بھی ابتر ہے۔ جس آدمی کو کوئی اولادِ نرینہ نہ ہو یا مر گئی ہو، اس کے لیے بھی ابتر کا لفظ بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پیچھے اس کا کوئی نام لیوا  باقی نہیں رہتا اور مرنے کے بعد وہ بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ قریب قریب اِن سب معنوں میں کفّارِ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی، ابتر تم نہیں ہو بلکہ تمہارے یہ دشمن  ابتر ہیں۔ یہ محض کوئی”جوابی حملہ“ نہ تھا، بلکہ درحقیقت یہ قرآن کی بڑی اہم پیشنگوئیوں میں سے ایک پیشنگوئی تھی جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی۔ جس وقت یہ پیشنگوئی کی گئی تھی اُس وقت لوگ حضورؐ ہی کو ابتر سمجھ رہے تھے اور کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا کہ قریش کے یہ بڑے بڑے سردار کیسے ابتر ہو جائیں گے جو نہ صرف مکّہ میں بلکہ پورے ملک عرب میں نامور تھے، کامیاب تھے، مال و دولت اور اولاد ہی کی نعمتیں نہیں رکھتے تھے بلکہ سارے ملک میں جگہ جگہ ان کے اَعوان  و انصار موجود تھے، تجارت کے اجارہ دار اور حج کے منتظم ہونے کی وجہ سے تمام قبائل عرب سے ان کے وسیع تعلقات تھے۔ لیکن چند سال نہ گزرے تھے کہ حالات بالکل پلٹ گئے۔ یا تو وہ وقت تھا کہ غزوۂ اَحزاب (سن 5 ہجری) کے موقع پر قریش بہت سے عرب اور یہودی قبائل کو لے کر مدینے پر چڑھ آئے تھے اور حضور ؐ کو محصور   ہو کر ، شہر کے گرد خندق کھود کر  مدافعت کرنی پڑی تھی، یا تین ہی سال بعد وہ وقت آیا کہ سن 8 ہجری میں جب آپ نے مکّہ پر چڑھائی کی تو قریش کا کوئی حامی و مددگار نہ تھا اور انہیں بے بسی کے ساتھ ہتھیار ڈال دینے پڑے۔ اس کے بعد ایک سال کے اندر پورا ملک عرب حضور ؐ کے ہاتھ میں تھا، ملک کے گوشے گوشے  سے قبائل کے وفود آکر بیعت کر رہے تھے، اور آپ کے دشمن بلکل بے بس اور بے یار و مددگار ہو کر رہ گئے تھے۔ پھر وہ ایسے بے نام و نشان ہوئے کہ ان کی اولاد اگر دنیا میں باقی رہی بھی تو اُن  میں سے آج کوئی یہ نہیں جانتا کہ وہ ابو جہل یا ابو لہب یا عاص بن وائل یا عُقْبہ بن ابی مُعَیط وغیرہ اعدائے اسلام کی اولاد میں سے ہے ، اور جانتا بھی ہو تو کوئی یہ کہنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اس کے اسلاف یہ لوگ تھے۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آج دنیا بھر میں درود بھیجا جا رہا ہے ۔ کروڑوں مسلمانوں کو آپ سے نسبت پر فخر ہے۔ لاکھوں انسان آپؐ ہی سے نہیں بلکہ آپ کے خاندان اور آپ کے ساتھیوں کے خاندانوں تک سے انتساب کو باعث عزّو شرف سمجھتے ہیں۔ کوئی سیّلہ ہے، کوئی علوی ہے، کوئی عباسی ہے، کوئی ہاشمی ہے، کوئی صدیقی ہے، کوئی فاروقی ، کوئی عثمانی، کوئی زُبیری، اور کوئی انصاری۔ مگر نام کو بھی کوئی ابو جہلی یا ابو لہبی نہیں پایا جاتا۔ تاریخ نے یہ ثابت کردیا کہ ابتر حضورؐ نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہی تھے اور ہیں۔
  • [2] اصل میں لفظ شَا نِئَکَ استعمال ہوا  ہے۔ شانیٔ شنٔ سے ہے جس کے معنی ایسے بغض اور ایسی عداوت کے ہیں جس کی بنا پر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بدسلوکی کر نے لگے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَ لَا یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰ نُ قَوْ مٍ عَلیٰۤ اَ لَّا تَعْدِلُوْا۔”اور اے مسلمانو، کسی گروہ کی عداوت تمہیں اِس زیادتی پر آمادہ نہ کر نے پائے کہ تم انصاف نہ کرو“۔ پس شَانِئَکَ سے مراد ہر وہ شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی اور عداوت میں ایسا اندھا ہو گیا ہو کہ آپ کو عیب لگاتا ہو، آپ کے خلاف بدگوئی کرتا ہو، آپ کی توہین کرتا ہو، اور آپ پر طرح طرح کی باتیں چھانٹ کر اپنے دل کا بخار نکالتا ہو۔

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]