Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Kafirun — Ayah 1

109:1
قُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ ١
کہہ دو کہ اے کافرو،1
Footnotes
  • [1] اس آیت میں چند باتیں خاص طور پر توجہ طلب ہیں: (1) حکم اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے کہ آپ کافروں سے یہ بات صاف صاف کہہ دیں، لیکن آگے کا مضمون یہ بتا رہا ہے کہ ہر مومن کو وہی بات کافروں سے کہہ دینی چاہیے کہ جو بعد کی آیات میں بیان ہوئی ہے حتیٰ کہ جو شخص کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آیا ہو اس کے لیے بھی لازم ہے کہ دینِ کفر  اور اس کی عبادات اور معبودوں سے اِسی طرح اپنی براءت کا اظہار کر دے۔ پس لفظِ قُلْ (کہہ دو) کے اولین مخاطَب تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں، مگر حکم حضور ؐ کے لیے خاص نہیں ہے بلکہ آپؐ کے واسطے سے ہر مومن کو پہنچتا ہے۔ (2) ”کافر“ کا لفظ کوئی گالی نہیں ہے جو اس آیت کے مُخاطَبوں کو دی گئی ہو، بلکہ عربی زبان میں کافر کے معنی انکار کرنے والے  اور نہ ماننے والے( Unbeliever ) کے ہیں ، اور اس کے مقابلے میں  ”مومن“ کا لفظ مان لینے اور تسلیم کرلینے والے(Believer ) کے لیے بولا جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے حکم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ” اے کافرو“ دراصل اس معنی میں ہے کہ” اے و ہ لوگو  جنہوں نے میری رسالت اور میری لائی ہوئی تعلیم کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔“ اور اسی طرح ایک مومن جب یہ لفظ کہے گا تو اس کی مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے والے ہوں گے۔ (3) اے کافرو کہا ہے، اے مشرکونہیں ، اس لیے مخاطَب صرف مشرکین ہی نہیں ہیں بلکہ وہ سب لوگ ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا رسول، اور آپ کی لائی ہوئی تعلیم و ہدایت کو اللہ جلّ شانہ، کی تعلیم و ہدایت نہیں مانتے، خواہ وہ یہود ہوں، نصاریٰ ہوں، مجوسی ہوں یا دنیا بھر کے کفار و مشرکین اور ملاحدہ ہوں۔ اِس خطاب کو صرف قریش یا عرب کے مشرکین تک محدود رکھنے کاکی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (4) منکرین کو اے کافرو کہہ کر خطاب کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم کچھ لوگوں کو اے دشمنو، یا اے مخالفو کہہ کر مخاطب کریں۔ اِس طرح کا خطاب دراصل مُخاطبوں کی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ اُن کی صفتِ  دشمنی اور صفتِ مخالفت کی بنا پر ہوتا ہے اور اُسی وقت تک کے لیے ہوتا ہے جب تک اُن میں یہ صفت باقی رہے۔ اگر اُن میں سے کوئی دشمنی و مخالفت چھوڑ دے ، یا دوست اور حامی بن جائے تو وہ اِس خِطاب کا مُخاطَب نہیں رہتا۔ بالکل اِسی طرح جن لوگوں کو ”اے کافرو“ کہہ کر خطاب کیا گیا ہے وہ بھی اُن کی صفتِ کفر کے لحاظ سے ہے نہ کہ اُن کی ذاتی حیثیت سے۔ اُن میں سے جو شخص مرتے دم تک کافر رہے اُس کے لیے تو یہ خطاب دائمی ہو گا،  لیکن جو شخص ایمان لے آئے وہ اِس کا مُخاطَب نہ رہے گا۔ (5) مفسرین میں سے بہت سے بزرگوں نے یہ رائے دی ہے کہ اس سورۃ میں”اے کافرو“ کا خطاب قریش کے صرف اُن چند مخصوص لوگوں سے تھا جو رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم کے پاس دین کے معاملے میں مصالحت کی تجویز لے لے کر آرہے تھے اور جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیا تھا کہ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ یہ رائے انہوں نے دو وجوہ سے قائم کی ہے۔ ایک یہ کہ آگے لَآ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَo (جس کی یا جن کی عبادت تم کرتے ہو اس کی یا اُن کی عبادت میں نہیں کرتا) فرمایا گیا ہے، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قول یہود و نصاریٰ پر صادق نہیں آتا، کیونکہ وہ اللہ کی عبادت  کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ آگے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وَلَآ اَنْتُمْ عَابِدُوْنَ مَآ اَعْبُدُ، (اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں)، اور ان کا استدلال یہ ہے کہ یہ قول اُن لوگوں پر صادق نہیں آتا جو اِس سورۃ کے نزول کے وقت کافر تھے اور بعد میں ایمان لے آئے ۔ لیکن یہ دونوں دلیلیں صحیح نہیں ہیں۔ جہاں تک اِن آیتوں کا تعلق ہے اِن کی تشریح تو ہم آگے چل کر کریں گے جس سے معلوم ہو جائے گا  کہ اِن کا وہ  مطلب نہیں ہے جو اِن سے سمجھا گیا ہے۔ یہاں اِس استدلال کی غلطی واضح کرنے کے  لیے صرف اتنی بات کہہ دینا کافی ہے کہ اگر اِس سورہ کے مخاطب صرف وہی لوگ تھے تو اُن کے مرکھپ جانے کے بعد اِس سورۃ کی تلاوت جاری رہنے کی آخر کیا وجہ ہے؟ اور اسے مستقل طور پر قرآن میں درج کر دینے کی کیا ضرورت تھی کہ قیامت تک مسلمان اسے پڑھتے  رہیں؟

Translations are available in both JSON and SQLite database formats. Some translation has footnotes as well, footnotes are embedded in the translation text using sup HTML tag. To support a wide range of applications, including websites, mobile apps, and desktop tools, we provide multiple export formats for translations.

Available export formats:

1. Nested Array Structure

Translations are grouped by Surah. Each Surah is an array containing translations for each Ayah in order. This format export translations as simple text, no formatting, no footnotes.

[
  ["translation of 1:1", "translation of 1:2"], ...
  ["translation of 2:1", "translation of 2:2"]
]

2. Key-Value Structure

Each translation is stored with the Ayah reference (e.g. 1:1) as the key and the translated text as the value. This format also exports translations as simple text, no formatting, no footnotes etc.

{
  "1:1": "translation of 1:1",
  "1:2": "translation of 1:2",
  ...
  "114:6": "translation of 114:6"
}

Translations with Footnotes

Translations with footnotes are available in three more formats:

1. Footnotes as Tags Format

Footnotes are embedded using a <sup> tag with a foot_note attribute. Footnote contents are stored separately under f key.

{
  "88:17": {
    "t": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed <sup foot_note=\"77646\">1</sup>",
    "f": {
      "77646": "The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'..."
    }
  }
}

2. Inline Footnote Format

Footnotes are inserted directly using double square brackets e.g([[this is footnote]])

{
  "88:17": "Do the disbelievers not see how rain clouds are formed [[The word ibl can mean 'camel' as well as 'rain cloud'...]]"
}

3. Text Chunks Format

In chunks export format, text is divided into chunks. Each chunk could be a simple text or an object. Object can be either footnote or a formatting tag. This format is useful for applications can't directly render the HTML tags. Here is an example of Bridges` translation for Surah An-Nas , Ayah 6:

Above translation will be exported in chunks as:

<i class="s">(from the whisperers)</i>among the race of unseen beings<sup foot_note="81506">1</sup>and mankind.”

      [
      {"type":"i","text":"(from the whisperers)"}, // first chunk, should be formatted as italic
      "among the race of unseen beings", //second chunk in simple text
      {"type":"f","f":"81506","text":"1"}, // third chunk is a footnote,
      "and mankind.”"
      ]