Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Anbya — Ayah 90

21:90
فَٱسۡتَجَبۡنَا لَهُۥ وَوَهَبۡنَا لَهُۥ يَحۡيَىٰ وَأَصۡلَحۡنَا لَهُۥ زَوۡجَهُۥٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡخَيۡرَٰتِ وَيَدۡعُونَنَا رَغَبٗا وَرَهَبٗاۖ وَكَانُواْ لَنَا خَٰشِعِينَ ٩٠
پس ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا۔1 یہ  لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دُھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جُھکے ہوئے تھے۔2
Footnotes
  • [1] اس سیاق و سباق میں انبیاء کا ذکر جس مقصد کے لیے کیا گیا ہے اسے پھر ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ حضرت زکریا کے واقعے کا ذکر کرنے سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ یہ سارے نبی محض بندے اور انسان تھے، اُلوہیت کا ان میں شائبہ تک نہ تھا۔ دوسروں کو اولاد بخشنے والے نہ تھے بلکہ خود اللہ کے آگے اولاد کے لیے ہاتھ پھیلانے والے تھے۔ حضرت یونس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ ایک نبی اولو االعزم ہونے کے باوجود جب ان سے قصور سرزد ہو ا تو انہیں پکڑ لیا گیا۔ اور جب وہ اپنے رب کے آگے جھک گئے تو ان پر فضل بھی ایسا کیا گیا کہ مچھلی کے پیٹ سے زندہ نکال لائے گئے۔ حضرت ایوب کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ نبی کا مبتلائے مصیبت ہونا کوئی نرالی بات نہیں ہے ، اور نبی بھی جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا ہی کے آگے شفا کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ وہ دوسروں کو شفا دینے والا نہیں، خدا سے شفا مانگنے والا ہوتا ہے۔ پھران سب باتوں کے ساتھ ایک طرف یہ حقیقت بھی ذہن نشین کرنی مقصود ہے کہ یہ سارے انبیاء توحید کے قائل تھے اور اپنی حاجات ایک خدا کے سوا کسی کے سامنے  نہ لے  جاتے تھے، اور دوسری طرف یہ بھی جتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ غیر معمولی طور پر اپنے نبیوں کی مدد کرتا رہا ہے، آغاز میں خواہ کیسی ہی آزمائشوں سے ان کو سابقہ پیش آیا ہو مگر آخر کار ان کی دعائیں معجزانہ  شان کے ساتھ پوری ہوئی ہیں۔
  • [2] تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل، آل عمران آیات نمبر 37 تا 41 مع حواشی ۔ جلد سوم، مریم، آیات نمبر 2 تا 15 مع حواشی۔ بیوی کو درست کر دینے سے مراد ان کا بانجھ پن دُور کر دینا اور سن رسیدگی کے باوجود حمل کے قابل بنا دینا ہے ۔ ”بہترین وارث تو تُو ہی ہے“، یعنی تُو اولاد نہ بھی دے تو غم نہیں، تیری ذات پاک وارث ہونے کے لیے کافی ہے۔