Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Hajj — Ayah 17

22:17
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَٱلَّذِينَ هَادُواْ وَٱلصَّٰبِـِٔينَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ وَٱلۡمَجُوسَ وَٱلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ يَفۡصِلُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ شَهِيدٌ ١٧
جو لوگ ایمان لائے،1 اور جو یہوُدی ہوئے،2 اور صابئی،3 اور نصاریٰ،4 اور مجوس5 ، اور جن لوگوں نے شرک کیا،6 ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے
Footnotes
  • [1] صابئی کے نام سے قدیم زمانے میں دو گروہ مشہور تھے۔ ایک حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پیرو، جو بالائی عراق (یعنی الجزیرہ) کے علاقے میں اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے تھے ،اور حضرت یحییٰ کی پیروی میں اصطباغ کے طریقے پر عمل کرتے تھے۔ دوسرے ستارہ پرست لوگ جو اپنے دین کو حضرت شیث اور حضرت ادریس علیہماالسلام کی طرف منسوب کرتے تھے اور عناصر پر سیّاروں کی اور سیّاروں پر فرشتوں کی فرماں روائی کے قائل تھے۔ ان کا مرکزحَرّاں تھا اور عراق کے مختلف حصّوں میں ان کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ دوسرا گروہ اپنے فلسفہ و سائنس اور فنِ طِب کے کمالات کے کی وجہ سے زیادہ مشہور ہوا ہے ۔ لیکن اغلب یہ ہے کہ یہاں پہلا گروہ مراد ہے۔ کیونکہ دوسرا گروہ غالبًا نزولِ قرآن کے زمانے میں اس نام سے موسوم نہ تھا۔
  • [2] تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القران جلد اوّل، النساء، حاشیہ نمبر 72۔
  • [3] یعنی”مسلمان“ جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں خدا کے تمام انبیاء ، اور اس کی کتابوں کو مانا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جنہوں نے پچھلے انبیاء کے ساتھ آپ پر بھی ایمان لانا قبول کیا۔ ان میں صادق الایمان بھی شامل تھے اور وہ بھی  تھے جو ماننے والوں میں شامل تو ہو جاتے تھے مگر”کنارے “ پر رہ کر بندگی کرتے تھے، اور کفر و ایمان کے درمیان مذبذب تھے۔
  • [4] یعنی عرب اور دوسرے ممالک کے مشرکین جو مذکورۂ بالا گروہوں کی طرح کسی خاص نام سے موسوم نہ تھے۔ قرآن مجید ان کو دوسرے گروہوں سے ممیز کرنے کے لیے مُشْرِکِیْن اور اَلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْ کے اصطلاحی ناموں سے یاد کر تا ہے، اگرچہ اہلِ ایمان کے سوا باقی سب کے ہی عقائد و اعمال میں شرک داخل ہو چکا تھا۔
  • [5] یعنی ایران کے آتش پرست جو روشنی اور تاریکی کے دو خدا مانتے تھے اور اپنے آپ کو زردشت کا پیرو کہتے تھے ۔ ان کے مذہب و اخلاق کو مَزْدَک کی گمراہیوں نے بری طرح مسخ کر کے رکھ دیا تھا ، حتٰی کہ سگی بہن سے نکاح تک ان میں رواج پایا گیا تھا۔
  • [6] تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، المائدہ ، حاشیہ نمبر 3۶۔