Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Furqan — Ayah 60

25:60
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱسۡجُدُواْۤ لِلرَّحۡمَٰنِ قَالُواْ وَمَا ٱلرَّحۡمَٰنُ أَنَسۡجُدُ لِمَا تَأۡمُرُنَا وَزَادَهُمۡ نُفُورٗا۩ ٦٠
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں”رحمٰن کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تُو کہہ دے اسی کو سجدہ کرتے پھریں؟1“ یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کر دیتی ہے۔2
Footnotes
  • [1]  یہ بات در اصل وہ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے ، جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا : وَمَارَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔’’ رب العا لمین کیا ہوتا ہے ؟‘‘حالانکہ نہ کفار مکہ خدائے رحمان سے بے خبر تھے اور نہ فرعون ہی اللہ رب العالمین سے نا واقف تھا۔ بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے ’’رحمان‘‘ کا اسم مبارک شائع نہ تھا اس لیے انہوں نے یہ اعتراض کیا ۔ لیکن آیت کا انداز کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ اعتراض نا واقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ طغیان جاہلیت کی بنا پر تھا، ورنہ اس پر گرفت کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نرمی کے ساتھ انہیں سمجھا دیتا کہ یہ بھی ہمارا ہی ایک نام ہے ، اس پر کان نہ کھڑے کرو۔ علاوہ بریں یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے لیے قدیم زمانے سے رحمان کا لفظ معروف و مستعمل تھا۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 5 ۔ سباء، حاشیہ 35 ۔
  • [2]  اس  جگہ سجدہ تلاوت مشروع ہے اور اس پر تمام اہل علم متفق ہیں ۔ ہر قاری اور سامع کو اس مقام پر سجدہ کرنا چاہیے ۔ نیز یہ بھی منون ہے کہ آدمی جب اس کو سنے تو جواب میں کہے : زَادَنا اللہُ خُضُوْعاً مَّا زَادَلِلْاَعْدَآءِ نُفُوْراً ، ’’ اللہ کرے ہمارا خضوع اتنا ہی بڑھے جتنا دشمنوں کا نفور بڑھتا ہے ‘‘۔