Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ash-Shu'ara — Ayah 155

26:155
قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٞ لَّهَا شِرۡبٞ وَلَكُمۡ شِرۡبُ يَوۡمٖ مَّعۡلُومٖ ١٥٥
صالح نے کہا”یہ اُونٹنی ہے۔1 ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔2
Footnotes
  • [1] یعنی ایک دن تنہا یہ اونٹنی تمہارے کنوؤں اور چشموں سے پانی پیے گے اور ایک دن ساری قوم کے آدمی اور جانور پیئیں گے۔ خبر دار، اس کی باری کے دن کوئی شخص پانی لینے کی جگہ پھٹکنے نہ پائے۔ یہ چیلنج بجائے خود نہایت سخت تھا۔ لیکن عرب کے مخصوص حالات میں تو کسی قوم کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا چیلنج ہو نہیں سکتا تھا۔ وہاں تو پانی ہی کے مسئلے پر خون خرابے ہو جاتے تھے ، قبیلہ قبیلے سے لڑ جاتا تھا اور جان جوکھوں کی بازی لگا کر کسی کنوئیں یا چشمے سے پانی لینے کا حق حاصل کیا جاتا تھا۔ اس سر زمین میں کسی شخص کا اَٹھ کر یہ کہہ دینا کہ ایک دن میری اکیلی اونٹنی پانی پیے گی اور باقی ساری قوم کے آدمی اور جانور صرف دوسرے دن ہی پانی لے سکیں گے ، یہ معنی کہتا تھا کہ وہ در اصل پوری قوم کو لڑائی کا چیلنج دے رہا ہے۔ ایک زبر دست لشکر کے بغیر کوئی آدمی عرب میں یہ بات زبان سے نہ نکال سکتا تھا اور کوئی قوم یہ بات اس وقت تک نہ سن سکتی تھی جب تک وہ اپنی آنکھوں سے یہ نہ دیکھ رہی ہو کہ چیلنج دینے والے کی پشت پر اتنے شمشیر زن اور تیر انداز موجود ہیں جو مقابلے پر اُٹھنے والوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ لیکن حضرت صالح نے بغیر کسی لاؤ لشکر کے تنہا اٹھ کر یہ چیلنج اپنی قوم کو دیا اور قوم نے نہ صرف یہ کہ اس کو کان لٹکا کر سنا بلکہ بہت دنوں تک ڈر کے مارے وہ اس کی تعمیل بھی کرتی رہی۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں اس پر اتنا اضافہ اور ہے کہ : ھٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً فَذَرُوْھَا تَاْ کُلُ فِیْ اَرْضِ اللہِ وَ لَا تَمَسُّوَھَا بِسُوْٓءٍ، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ، چھوڑ دو اسے کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ، ہر گز اسے بُرے ارادے سے نہ چھونا‘‘۔ یعنی چیلنج صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ہر دوسرے روز اکیلی  یہ اونٹنی دن بھر سارے علاقے کے پانی کی اجارہ دار رہے گی، بلکہ اس پر مزید یہ چیلنج بھی تھا کہ یہ تمہارے کھیتوں اور باغوں اور نخلستانوں اور چراگاہوں میں دندناتی پھرے گی، جہاں چاہے گی جائے گی، جو کچھ چاہے گی کھائے گی، خبر دار جو کسی نے اسے چھیڑا۔
  • [2]  معجزے کے مطالبے پر اونٹنی پیش کرنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہو محض ایک عام اونٹنی نہ تھی جیسی ہر عرب کے پاس وہاں پانی جاتی تھی، بلکہ ضرور اس کی پیدائش اور اس کے ظہور میں یا اس کی خلقت میں کوئی ایسی چیز تھی جسے معجزے کی طلب پر پیش کرنا معقول ہوتا۔ اگر حضرت صالح اس مطالبے کے جواب میں یوں ہی کسی اونٹنی کو پکڑ کے کھڑا کر دیتے تو ظاہر ہے کہ یہ ایک نہایت فضول حرکت ہوتی جس کی کسی پیغمبر تو در کنار، ایک عام معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات یہاں تو صرف سیاق کلام ہی کے اقتضاء سے سمجھ میں آتی ہے ، لیکن دوسرے مقامات پر قرآن میں صراحت کے ساتھ اس اونٹنی کے وجود کو معجزہ کہا گیا ہے۔ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں فرمایا گیا ھٰذِہٖ نَا قَۃُ اللہِ لَکُمْ ایٰۃً، ’’ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے نشانی کے طور پر ہے ’’۔ اور سورہ بنی اسرائیل میں اس سے بھی زیادہ پر زور الفاظ میں ارشاد ہوا ہے : وَمَا مَنَعَنآ اَنْ نُّرْ سِلَ بِا لْایٰٰتٍ اِلَّا اَنْ کَذَّب َ بِھَا الْاَوَّلُوْ نَ، وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْ ا بِھَا وَمَا نُرْ سِلُ  بِالْایٰٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفاً ہ (آیت 59) ہم کو نشانیاں بھیجنے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم ثمود کے سامنے آنکھوں دیکھتے اونٹنی لے آئے پھر بھی انہوں نے اس کے ساتھ ظلم کیا۔ نشانیاں تو ہم خوف دلانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں (تماشا دکھانے کے لیے تو نہیں بھیجتے )۔ اس پر مزید وہ چیلنج ہے جو اونٹنی کو میدان میں لے آنے کے بعد اس کافر قوم کو دیا گیا۔ اس کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ صرف ایک معجزہ ہی پیش کر کے ایسا چیلنج دیا جا سکتا تھا۔