Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ash-Shu'ara — Ayah 157

26:157
فَعَقَرُوهَا فَأَصۡبَحُواْ نَٰدِمِينَ ١٥٧
مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں1 اور آخر کار پچھتاتے رہ گئے۔عذاب نے انہیں آلیا۔2
Footnotes
  • [1]  قرآن میں دوسرے مقامات پر اس عذاب کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جب اونٹنی مار ڈالی گئی تو حضرت صالحؑ نے اعلان کیا : تَمَتَّعُوْا فِیْ دَار ِ کُمْ ثَلٰثَۃَ اَیَّامٍ، ’’ تین دن اپنے گھروں میں مزے کر لو ‘‘(ہود، آیت 65 )۔ اس نوٹس کی مدت ختم ہونے پر رات کے پچھلے پہر صبح کے قریب ایک زبر دست دھماکا ہوا اور اس کے ساتھ ایسا سخت زلزلہ آیا جس نے آن کی آن میں پوری قوم کا تباہ کر کے رکھ دیا۔ صبح ہوئی تو ہر طرف اس طرح کچلی ہوئی لاشیں پڑی تھیں جیسے باڑے کی باڑھ میں لگی ہوئی سوکھی جانوروں کی آمد و رفت سے پا مال ہو کر رہ گئی ہوں۔ نہ ان کے سنگین قصر انہیں اس آفت سے بچا سکے نہ پہاڑوں میں کھو دے ہوئے غار۔ اِنَّآ اَر ْ سَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَکَا نُوْ اَکَھَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ (القمر، آیت 31) فَاَخَذَتْھُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَا رِھِمْ جٰثِمِیْنَ (اعراف، آیت 78) فَاَ خَذَ ثھُمُ الصَّیْحَہُ مُصْبِحِنَ ہ فَمَآ اَغْنیٰ عَنْہُمْ مَّا کَا نُوْا یَکْسِبُوْنَ  O (الحجر، آیات 83۔ 84 )۔
  • [2]  یہ مطلب نہیں ہے کہ جس وقت انہوں نے حضرت صالح سے یہ چیلنج سنا اسی وقت وہ اونٹنی پر پل پڑے اور اس کونچیں کاٹ ڈالیں ، بلکہ کافی مدت تک یہ اونٹنی ساری قوم کے لیے ایک مسئلہ بنی رہی، لوگ اس پر رلوں میں اونٹتے رہے ، مشورے ہوتے رہے ، اور آخر کار ایک من چلے سردار نے اس کام کا بیڑا اٹھایا کہ وہ قوم کو اس سے نجات دلائے گا۔ سورہ شمس اس شخص کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے : اِذِنٰبَعَثَ اَشْقَا ھَا، ’’ جب کہ اٹھا اس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی‘‘۔ اور سورہ قمر میں فرمایا گیا ہے : فَنَا دَوْا صَاحِبَھُمْ فَتَعَا طیٰ فَعَقَرَ ’’ انہوں نے اپنے رفیق سے اپیل کی، آخر کار وہ یہ کام اپنے ذمہ لے کر اٹھا اور اس نے کوچیں کاٹ ڈالیں ‘‘۔