Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ash-Shu'ara — Ayah 49

26:49
قَالَ ءَامَنتُمۡ لَهُۥ قَبۡلَ أَنۡ ءَاذَنَ لَكُمۡۖ إِنَّهُۥ لَكَبِيرُكُمُ ٱلَّذِي عَلَّمَكُمُ ٱلسِّحۡرَ فَلَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيۡدِيَكُمۡ وَأَرۡجُلَكُم مِّنۡ خِلَٰفٖ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٤٩
فرعون نے کہا”تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔1 اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواوٴں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا۔“2
Footnotes
  • [1]  یہ خوفناک دھمکی فرعون نے اپنے اس نظریے کو کامیاب کرنے کے لیے دی تھی کہ جادو گر در اصل موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سازش کر کے آئے ہیں۔ اس کے پیش نظر یہ تھا کہ اس طرح یہ لوگ جان بچانے کے لیے سازش کا اعتراف کر لیں گے اور وہ ڈرامائی اثر کافور ہو جائے گا جو شکست کھاتے ہی ان کے سجدے میں گر کر ایمان لے آنے سے ان ہزارہا ناظرین پر مترتب ہوا تھا جو خود اس کی دعوت پر یہ فیصلہ کن مقابلہ دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے اور جنہیں خود اس کے بھیجے ہوئے لوگوں نے یہ خیال دلایا تھا کہ مصری قوم کا دین و ایمان بس ان جادو گروں کے سہارے لٹک رہا ہے ، یہ کامیاب ہوں تو قوم اپنے دین آبائی پر قائم رہ سکے گی ورنہ موسیٰ کی دعوت کا سیلاب اسے اور اس کے ساتھ فرعون کی سلطنت کو بھی بہا لے جائے گا۔
  • [2] یہاں چونکہ سلسلہ کلام کی مناسبت سے صرف یہ دکھانا ہے ہ ایک ضدی اور ہٹ دھرم آدمی کس طرح ایک صریح معجزہ دیکھ کر، اور اس کے معجزہ ہونے پر خود جادو گروں کی شہادت سن کر بھی اسے جادو کہے جاتا ہے ،اس لیے فرعون کا صرف اتنا ہی فقرہ نقل کر نے پر اکتفا کیا گیا ہے ، لیکن سورہ اعراف میں تفصیل کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون نے بازی ہارتی دیکھ کر فوراً ہی ایک سیاسی سازش کا افسانہ گھڑ لیا۔ اس نے کہا :اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِ جُوْ ا مِنْھَآ اَھْلَھَا ’’ یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے مل کر اس دارالسلطنت میں تیار کی ہے تا کہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو‘‘۔ اس طرح فرعون نے عام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جادو گروں کا یہ ایمان معجزے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ محض ملی بھگت ہے ، یہاں آنے سے پہلے ان کے اور موسیٰ کے درمیان معاملہ طے ہو گیا تھا کہ یوں ہو موسیٰ کے مقابلے میں آ کر شکست کھائیں گے ، اور نتیجے میں جو سیاسی انقلاب ہو گا اس کے مزے وہ اور یہ مل کر لوٹیں گے۔