Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 24

27:24
وَجَدتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُونَ لِلشَّمۡسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُونَ ٢٤
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے1“۔۔۔۔2شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے3 اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے
Footnotes
  • [1] یعنی دنیا کی دولت کمانے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنا نے کے جس کام میں وہ منہمک تھے، شیطان نے اُن کو سُجھا دیا کہ بس یہی عقل و فکر  کا ایک مصرف اور قوائے ذہنی و جسمانی کا ایک استعمال ہے ، اِس سے زیادہ کسی چیز پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی حاجت ہی نہیں ہے کہ تم خواہ مخواہ اِس فکر میں پڑو کہ اس ظاہر حیاتِ دنیا کے پیچھے حقیقتِ واقعیہ کیا ہے اور تمہارے مذہب، اخلاق، تہذیب اور نظامِ حیات کی بنیاد یں اُس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہیں یا سراسر اس کے خلاف جا رہی ہیں۔ شیطان نے ان کو مطمئن کر دیا کہ جب تم دنیا میں دولت اور طاقت اور شان و شوکت کے لحاظ سے بڑھتے  ہی چلے جا رہے ہو تو پھر تمہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہی کی اہے کہ ہمارے یہ عقائد اور فلسفے اور نظر یے ٹھیک ہیں یا نہیں۔ ان کے ٹھیک ہونے کی تو یہی ایک دلیل کافی ہے کہ تم مزے سے دولت کما رہے ہو اور عیش اُڑا رہے ہو۔
  • [2] اندازِ کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سے آخر پیر اگر اف تک کی عبارت ہُدہُد کے کلام کا جُز نہیں ہے بلکہ ”سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے“ پر اس کی بات ختم ہوگئی اور اس کے بعد اب یہ ارشاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر بطور اضافہ ہے ۔ اس قیاس کو جو یز تقویت دیتی ہے وہ یہ فقرہ ہے  وَیَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ،”اور وہ سب کچھ جانتا ہے  جسے تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو“۔ان الفاظ سے یہ گمان غالب ہوتا ہے کہ متکلم ہُدہُد اور مخاطب حضرت سلیمانؑ اور ان کے اہلِ دربار نہیں ہیں، بلکہ متکلم اللہ تعالیٰ اور مخاطب مشرکین ِ مکہ ہیں جن کو نصیحت کرنے ہی کے لیے یہ قصہ سنا یا جا رہا ہے۔ مفسیرن میں سے علامہ آلوسی، صاحبِ روح المعانی بھی اسی قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔
  • [3] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم اس زمانے میں آفتاب پرستی کے مذہب کی پیرو تھی۔ عرب کے قدیم روایات سے بھی اس کا یہی مذہب معلوم ہوتا ہے ، چنانچہ ابن اسحاق علمائے انساب کا یہ قول نقل کرتا ہے کہ سبا کی قوم دراصل ایک مورثِ اعلیٰ کی طرف منسوب ہے جس کا نام عبدِ شمس (بندہ آفتاب یا سورج کا پرستار) اور لقب سبا تھا۔ بنی اسرائیل کی روایات بھی اسی کی تائید کرتی ہیں۔ان میں بیان کیا گیا ہے کہ ہُدہُد جب حضرت سلیمان کا خط لے کر پہنچا تو ملکہ سبا سورج دیوتا کی پرستش کے لیے جا رہی تھی۔ ہُدہُد نے راستے ہی میں وہ خط ملکہ کے سامنے پھینک دیا۔