Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 31

27:31
أَلَّا تَعۡلُواْ عَلَيَّ وَأۡتُونِي مُسۡلِمِينَ ٣١
مضمون یہ ہے کہ”میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاوٴ۔“1
Footnotes
  • [1] یعنی خط کی اہمیت کئی وجوہ سے ہے۔ ایک یہ کہ وہ عجیب غیر معمولی طریقے سے آیا ہے ۔ بجائے اس کے کہ کوئی سفارت اسے لا کر دیتی ، ایک پرندے نے اسے لا کر مجھ پر ٹپکا دیا ہے ۔ دوسرے یہ کہ وہ فلسطین و شام کے عظیم فرمانروا سلیمانؑ کی جانب سے ہے۔ تیسرے یہ کہ اسے اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے، حالانکہ دنیا میں  کہیں کسی سلطنت کے مراسلوں میں یہ طریقہ استعمال کیا جاتا۔ پھر سب دیوتاؤں کو چھوڑ کر صرف خدائے بزرگ و برتر کے نام پر خط لکھنا بھی ہماری دنیا میں ایک غیر معمولی بات ہے ۔ ان سب باتوں کے ساتھ یہ امر اس کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے کہ اس میں بالکل صاف صاف ہم کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ ہم سرکشی چھوڑ کر اطاعت اختیار کر لیں اور تابع فرمان بن کر یا  مسلمان ہو کر سلیمانؑ کے آگے حاضر ہوجائیں۔           ”مسلم“ہو کرحاضر ہونے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ مطیع بن کر حاضر ہو جاؤ، دوسرے یہ کہ دینِ اسلا قبول کر کے حاضر ہو جاؤ۔ پہلا مفہوم حضرت سلیمانؑ کی شان ِ فرماں روائی سے مطابقت رکھتا ہے اور دوسرا مفہوم ان کی شان پیغمبری سے ۔ غالباً یہ جامع لفظ اسی لیے استعمال کیا گیا ہے  کہ خط میں یہ دونوں مقاصد شامل تھے۔ اسلام کی طرف سے خود مختیار قوموں اور حکومتوں کو ہمیشہ یہی دعوت دی گئی ہے کہ یا تودینِ حق قبول کر و اور ہمارے ساتھ نظامِ اسلای یں برابر کے حصہ دار بن جاؤ، یا پھر اپنی سیاسی خود مختیاری سے دست بردار ہو کر اسلامی نظام کی ماتحتی قبول کرو اور سیدھے ہاتھ سے جزیہ دو۔