Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 34

27:34
قَالَتۡ إِنَّ ٱلۡمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرۡيَةً أَفۡسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهۡلِهَآ أَذِلَّةٗۚ وَكَذَٰلِكَ يَفۡعَلُونَ ٣٤
ملکہ نے کہا کہ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں1۔ یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں2
Footnotes
  • [1] اس فقرے میں دو برابر کے احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ ملکہ سبا ہی کا قول ہو اور اس نے اپنے پچھلے قول پر بطورِ تاکید اس کا اضافہ کیا ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہو جو ملکہ کے قول کی تائید کے لیے جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہو۔
  • [2] اس ایک فقرے پر امپیر یلزم اور اس کے اثرات و نتائج پر مکمل تبصرہ کردیا گیا ہے ۔ بادشاہوں کی ملک گیری اور فاتح قوموں کی دوسری قوموں پر دست درازی کبھی اصلاح اور خیر خواہی کے لیے نہیں ہوتی۔ اس کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کہ دوسری قوم کے خدا نے جو رزق دیا ہے اور جو وسائل و ذرائع عطا کیے ہیں ان سے وہ خود متمتع ہوں اور اس قوم کو اتنا بے بس کر دیں کہ وہ کبھی ان کے مقابلے میں سر اٹھاکر اپنا حصہ نہ مانگ سکے۔ اس غرض کے لیے وہ اس کی خوشحالی اور طاقت اور عزت کے تمام ذرائع ختم  کر دیتے ہیں، اس کے جن لوگوں میں بھی اپنی خودی کا دم داعیہ ہوتا ہے انہیں کچل کر رکھ دیتے ہیں، اس کے افراد میں غلامی ، خوشامد، ایک دوسرے کی کاٹ، ایک دوسرے کی جاسوسی ، فاتح کی نقالی، اپنی تہذیب کی تحقیر، فاتح تہذیب کی تعظیم اور ایسے ہی دوسرے کمینہ اوصاف پیدا کر دیتے ہیں، اور انہیں بتدریج اس بات کا خوگر بنا دیتےہیں کہ وہ اپنی کسی مقدس سے مقدس چیز کو بھی بیچ دینے میں تامل نہ کریں اور اجرت پر ہر ذلیل سے ذلیل خدمت انجام دینے  کے لیے تیار ہوجائیں۔