Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 42

27:42
فَلَمَّا جَآءَتۡ قِيلَ أَهَٰكَذَا عَرۡشُكِۖ قَالَتۡ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ وَأُوتِينَا ٱلۡعِلۡمَ مِن قَبۡلِهَا وَكُنَّا مُسۡلِمِينَ ٤٢
ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی”یہ تو گویا وہی ہے1۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)۔“2
Footnotes
  • [1] یعنی یہ معجزہ دیکھنے سے پہلے ہی سلیمان علیہ السلام کے جواد صاف اور حالات ہمیں معلوم ہو چکے تھے ان کی بنا پر ہمیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں ، محض ایک سلطنت کے فرمانروا نہیں ہیں۔ تخت کو دیکھنے اور ”گویا یہ وہی ہے “کہنے کے بعد اس فقرے کا اضافہ کرنے میں آخر کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ حضرت سلیمانؑ نے اس کے لیے ایک تخت بنوا کر رکھ دیا تھا؟ بالفرض اگر وہ تخت ملکہ کے تخت سے مشابہ ہی تیار کرا لیا گیا ہو تب بھی اس میں آخر وہ کیا کمال ہو سکتا تھا کہ ایک آفتاب پر ست ملکہ اسے دیکھ کر یہ بول اٹھتی کہ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَ کُنَّا مُسْلِمِیْنَ،”ہم کو پہلے ہی علم نصیب ہو گیا تھا اور ہم مسلم ہو چکے تھے“۔
  • [2] اس سے ان لوگوں کے خیالات کی بھی تردید ہو جاتی ہے جنہوں نے صورتِ واقعہ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ گویا حضرت سلیمانؑ اپنی مہمان ملکہ کے لیے ایک تخت بنوانا چاہتے تھے، اس غرض کے لیے انہوں نے ٹینڈر طلب کیے، ایک ہٹے کٹے کاریگر نے کچھ زیادہ مدت میں تخت بنا دینے کی پیش کش کی۔ مگر ایک دوسرے ماہر استاد نے کہا میں تُرت پُھرت بنائے دیتا ہوں۔ اس سارے نقشے کا تارو پود اس بات سے بکھر جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ نے خود ملکہ ہی کا تخت لانے کے لیے فرمایا تھا(اَیُّکُمْ یَاْتِیَنِیْ بِعَرْشِھَا)، اور اس کی آمد پر اپنے ملازموں کو اسی کا تخت  انجان طریقے سے اس کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا تھا(نَکِرُّوْ الَھَا عَرْشَھَا)، پھر جب وہ آئی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے (اَھٰکَذَا عَرْشُکِ) او ر اس نے کہا گویا یہ وہی ہے (کَاَنَّہُ ھُوَ)۔ اس صاف بیان کی موجودگی میں اُن لا طائل تاویلات کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ۔ اس پر بھی کسی کو شک رہے تو بعد کا فقرہ اسے مطمئن کرنے کے لیے کافی ہے۔