Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 62

27:62
أَمَّن يُجِيبُ ٱلۡمُضۡطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجۡعَلُكُمۡ خُلَفَآءَ ٱلۡأَرۡضِۗ أَءِلَٰهٞ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ ٦٢
کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟1 اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟2 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو
Footnotes
  • [1] اس کے دو معنی ہیں ۔ ایک یہ کہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم  اٹھاتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ تم کو زمین میں تصرف اور فرما نروائی کے اختیارات عطا کرتا ہے
  • [2] مشرکین عرب خود اس بات کو جانتے اور مانتے تھے کہ مصیبت کو ٹالنے والا حقیقت میں اللہ ہی ہے چنانچہ قرآن مجید جگہ جگہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ جب تم پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو تم خدا ہی سے فریاد کرتے ہو، مگر جب وہ وقت ٹل جاتا ہے تو خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتے ہو(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول الانعام، حواشی29۔41۔جلد دوم،یونس،آیات21۔22۔حاشیہ31۔النحل،حاشیہ4۶۔بنی اسرائیل حاشیہ،84۔ )اور یہ بات صرف مشرکین عرب ہی تک محدود نہیں ہے دنیا بھر کے مشرکین کا بالعموم یہی حال ہے ۔ حتٰی کے روس کے منکرین خدا جنہوں نے خدا پرستی کے خلاف ایک باقاعدہ مہم چلا رکھی ہے ، ان پر بھی جب گزشتہ جنگ عظیم میں جرمن فوجوں کا نرغہ سخت ہو گیا تو انہیں خدا کو پکار نے کی ضرورت محسوس ہوگئی تھی۔