Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 7

27:7
إِذۡ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهۡلِهِۦٓ إِنِّيٓ ءَانَسۡتُ نَارٗا سَـَٔاتِيكُم مِّنۡهَا بِخَبَرٍ أَوۡ ءَاتِيكُم بِشِهَابٖ قَبَسٖ لَّعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُونَ ٧
(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ1”مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو2۔“
Footnotes
  • [1] یہ اُس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مَدْیَن میں آٹھ دس سال گزارنے ک بعد اپنے اہل  وعیان کو ساتھ لے کر کوئی ٹھکانہ تلاش کرنے جا رہے تھے۔ مدین کا علاقہ خلیج عَقَبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سوا حل پر واقع تھا(ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جدل سوم الشُعراء، حاشیہ 115)۔ وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اُس مقام پر پہنچے جواب کوہِ سینا اور جبلِ موسیٰ کہلاتا ہے اور نزولِ قرآن کے زمانہ میں طُور کے نام سے مشہور تھا۔ اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔
  • [2] فحوائے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت اور جاڑے کا موسم تھا۔ اور حضڑت موسیٰ علیہ السلام ایک اجنبی علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ زیادہ واقفیت نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ میں جا کر معلوم کرتا ہوں یہ کونسی بستی ہے جہاں آگجل رہی ہے ، آگے کدھر کدھر راستے جاتے ہیں اور کون کون سی بستیاں قریب ہیں۔ تاہم اگر وہ بھی ہماری ہی طرح کوئی چلتے پھرتے مسافر ہوئے جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم ازکم میں کچھ انگارے ہی لے آؤں گاکہ تم لوگ آگ جلا کر کچھ گرمی حاصل کر سکو۔           یہ مقام جہاں حضرت موسیٰ نے جھاڑی میں آگ لگی ہوئی دیکھی تھی، کوہ ِ طور کے دامن میں سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فیٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قُسطَنِطین نے 3۶5؁ ء کے لگ بھگ زمانے میں ٹھیک اُس مقام پر ایک کنیسہ تعمیر کروایا تھا جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔ اس کے دو سو برس بعد قیصر حَسٹِینین نے یہاں ایک دَیر ( Monastery ) تعمیر کروایا جس کے اندر قسطنطین کے بنائے ہوئے کنیسہ کو بھی شامل کر لیا۔ یہ دیر اور  کنیسہ دونوں آج تک موجود ہیں اور یونانی کلیسا ( Greek Orthodox Church ) کے راہبوں کا ان پر قبضہ ہے ۔ میں نے جنوری 19۶۰؁ء میں اس مقام کی زیارت ی ہے ۔ مقابل کے صفحہ پر اس مقام کی کچھ تصاویر ملاحظہ ہوں۔