Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 86

27:86
أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٨٦
کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟1 اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔2
Footnotes
  • [1] یعنی بے شمار نشانیوں  میں سے یہ دو نشانیاں تو ایسی تھیں جن کا وہ سب ہر وقت مشاہدہ کر رہے تھے، جن کے فوائد سے ہر آن متمتع ہو رہے تھے، جو کسی اندھے بہرے اور گونگے تک سے چھپی ہو ئی نہ تھیں۔ کیوں نہ رات کے آرام اور دن کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے وقت انہوں نے کبھی سوچا کہ یہ ایک حکیم کا بنایا ہوا نظام ہے جس نے ٹھیک ٹھیک ان کی ضروریات کے مطابق زمین اور سورج کا تعلق قائم کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا ، کیونکہ اس میں مقصدیت ،حکمت اور منصوبہ بندی علا نیہ نظر آرہی ہے جو اندھے قوائےفطرت کی صفت نہین ہو سکتی۔ اور یہ بہت سے خداؤں کی کار فرمائی بھی نہیں ہے ، کیونکہ یہ نظام لا محالہ کسی ایک ہی ایسے خالق و مالک اور مدبّر کا قائم کیا ہوا ہو سکتا ہے جو زمین، چاند ، سورج اور تمام دوسرے سیاروں پر فرمانروائی کر رہا ہو۔ صرف اسی ایک چیز کو دیکھ کر وہ جان سکتے تھے کہ ہم نے اپنے رسول اور اپنی کتاب کے ذریعہ سے جو حقیقت بتائی ہے یہ رات اور دن کی گردش اس کی تصدیق کر رہی ہے۔
  • [2] یعنی یہ کوئی نہ سمجھ میں  آسکنے والی بات بھی نہیں تھی۔ آخر انہی کے بھائی بند ، انہی کے قبیلے اور برادری کے لوگ، انہی جیسے انسان ایسے موجود تھے جو یہی نشانیاں دیکھ کر مان گئے تھے کہ نبی جس خدا پر ستی اور توحید کی طرف بلا رہا ہے وہ بالکل مطابقِ حقیقت ہے۔