Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah An-Naml — Ayah 89

27:89
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩
جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا1 اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔2
Footnotes
  • [1] یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرینِ حق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے۔ اس لیے کہ  یہ سب کچھ ان توقعات کے مطابق ہو گا۔ وہ پہلے سے اللہ اور اسکے  رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہو نی ہے ، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے  اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے ۔ اس لیے ان پر وہ سب بد حواسی اور گھبراہت طاری نہ ہوگی جو مرتے دم تک اس چیزکا انکار کرنے والوں اور اس سے غافل رہنے والوں پر طاری ہوگی۔ پھر ان کے اطمینان کی وجہ یہ بھی ہو گی کہ انہوں نے اس دن کی توقع پر اس کے لیے فکر کی تھی اور یہاں کی کامیابی کے لیے کچھ سامان کر کے دنیا سے آئے تھے۔ اس لیے اُن پر وہ گھبراہٹ طاری نہ ہوگی جوان لوگوں پر طاری ہو گی جنہوں نے اپنا سارا سرمایہ حیات دنیا ہی کی کامیابیاں حاصل کرنے پر لگا دیا تھا اور کبھی نہ سوچا تھا کہ  کوئی آخرت بھی ہے جس کےلیے کچھ سامان کرنا ہے ۔ منکرین کے بر عکس یہ مومنین اب مطمئن ہوں گے کہ جس دن کے لیے ہم نے ناجائز فائدوں اور لذتوں کو چھوڑا تھا، اور صعوبتیں اور مشقتیں برداشت  کی تھیں، وہ دن آگیا ہے اور اب یہاں ہماری محنتوں کا اجر ضائع ہونے والا نہیں ہے۔
  • [2] یعنی  وہ اس لحاظ سے بھی بہتر  ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے  زیادہ انعام اسے دیا جائے گا۔ اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔