Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 13

28:13
فَرَدَدۡنَٰهُ إِلَىٰٓ أُمِّهِۦ كَيۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ وَلِتَعۡلَمَ أَنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ١٣
اس طرح ہم موسیٰؑ کو1 اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،2 مگر اکثر لوگ اس بات  کو نہیں جانتے۔ “
Footnotes
  • [1] اور اللہ کی اس حکیمانہ تدبیر کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ حضرت موسیٰ فی الواقع فرعون کے شاہزادے نہ بن سکے بلکہ اپنے ہی ماں باپ اور بہن بھائیوں میں پرورش پا کر انہیں اپنی اصلیت اچھی طرح معلوم ہو گئی۔ اپنی خاندانی روایات سے ، اپنے آبائی مذہب سے ، اور اپنی قوم سے ان کا رشتہ نہ کٹ سکا۔ وہ آلِ فرعون کے ایک فرد بننے کے بجائے اپنے دلی جذبات اور خیالات کے اعتبار سے پوری طرح بنی اسرائیل کے ایک فرد بن کر اُٹھے۔           نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں مثل الذی یعمل و یحتسب فی صنعتہ الخیر کمثل ام موسیٰ ترضع ولدھا و تاخذا جر ھا۔”جو شخص اپنی روزی کمانے کے لیے کام کرے اور اس کام میں اللہ کی خوشنودی پیش نظر رکھے اس کی مثال حضرت موسیٰؑ کی والدہ کی سی ہے کہ انہوں نے اپنے ہی بیتَ کو دودھ پلایا اورا س کی اجرت بھی پائی“۔ یعنی ایسا شخص اگرچہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کام کرتا ہے  لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پیش نظر رکھ کر ایمانداری سے کام کرتا ہے جس کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے اس کا حق ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے ، اور رزق حلال سے اپنے نفس اور اپنے بال بچوں کی پرورش اللہ کی عبادت سمجھتے ہوئے کرتا ہے ، اس لیے وہ اپنی روزی کمانے پر بھی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق ہوتا ہے ۔ گویا روزی بھی کمائی اور اللہ سے اجر وثواب بھی پایا۔
  • [2] بائیبل  اور تلمود  سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا نام”موسیٰ“فرعون کے گھر میں رکھا گیا تھا۔ یہ عبرانی زبان کا نہیں بلکہ قِبْطی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں”میں نے اسے پانی سے نکالا“۔قدیم مصری زبان سے بھی حضرت موسیٰؑ کے نام کی یہ تخریج صحیح ثابت ہوتی ہے۔اس زبان میں ”مو“پانی کو کہتے تھے اور ”اوشے“کا مطلب تھا”بچا یا ہوا“۔