Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 15

28:15
وَدَخَلَ ٱلۡمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفۡلَةٖ مِّنۡ أَهۡلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيۡنِ يَقۡتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنۡ عَدُوِّهِۦۖ فَٱسۡتَغَٰثَهُ ٱلَّذِي مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِي مِنۡ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيۡهِۖ قَالَ هَٰذَا مِنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِۖ إِنَّهُۥ عَدُوّٞ مُّضِلّٞ مُّبِينٞ ١٥
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔1 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا2 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی)موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“3
Footnotes
  • [1] اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھآ کر جب مصری گرا ہوگا اور اس نے دم توڑ دیا ہوگا تو کیسی  سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسیٰؑ کی زبان سے نکلے ہوں گے۔ ان کا کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا۔ نہ قتل کے لیے گھونسا مارا جاتا ہے۔ نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پِرَان چھوڑ دے گا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰؑ نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریر انہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے ایک بڑا فساد کھرا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تا کہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کے خلاف مصر میں ایک طوفانِ عظیم اُٹھ کھڑا ہو۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے۔ وہ حضرت موسیٰؑ کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھیراتی ہے۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسیٰؑ نے ”ادھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو  جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا“(خروج12:2)۔ یہی بات تلمود میں بھی قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے ۔ عقل بھی یہی  کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی، جسے آگے چل کر ایک اولو العزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم الشان قانون دینا تھا، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہو سکتا  کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہو جائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنچے سے چھڑا نے کے لیے اسے قتل کر دینا تو روانہ ہو سکتا تھا۔
  • [2] اصل میں لفظ”وکز“استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارنے  کے بھی ۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہو جانا گھونسے کی  بہ نسبت بعید تر ہے، اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے۔
  • [3] ہو سکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں دوپہر کا ، یا سردیوں میں رات کا۔ بہر حال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔           ”شہر میں داخل ہوا“، ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالسطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ شاہی محل میں رہتے تھے اس لیے”شہر میں نکلے“کہنے کے بجائے”شہر میں داخل ہوئے“فرمایا گیا ہے۔