Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 32

28:32
ٱسۡلُكۡ يَدَكَ فِي جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوٓءٖ وَٱضۡمُمۡ إِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ ٱلرَّهۡبِۖ فَذَٰنِكَ بُرۡهَٰنَانِ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَإِيْهِۦٓۚ إِنَّهُمۡ كَانُواْ قَوۡمٗا فَٰسِقِينَ ٣٢
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔1 اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔2 یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“3
Footnotes
  • [1] ان الفاظ میں یہ مفہوم آپ سے شامل ہے کہ یہ نشانیاں لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اللہ کے رسول کی حیثیت سے اپنے آپ کو پیش  کر کے اسے اور اس کے اعیانِ سلطنت کو اللہ رب ّ العالمین کی اطاعت و بندگی کی طرف دعوت دو۔ اسی لیے یہاں اس ماموریت کی تصریح نہیں کی گئی ہے ۔ البتہ دُوسرے مقامات پر صراحت کے ساتھ یہ مضمون بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ طٰہٰ اور سورہ نازعات میں فرمایا اِذْھَبْ اِلیٰ فِرْعَوْنَ اِنَّہُ طَغیٰ، ”فرعون کے پاس جا کہ وہ سرکش ہو گیا ہے“۔ اور الشعراء میں فرمایا اِذْ نَا دٰی رَبُّکَ مُوْسیٰٓ اَنِ ائتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ قَوْمَ فِرْعَوْنَ، ”جب کہ پکارا تیرے رب نے موسیٰ ؑ کو کہ جا ظالم قوم کے پاس، فرعون کی قوم کے پاس“۔
  • [2] یعنی جب کبھی کوئی خطر ناک موقع ایسا آئے جس سے تمہارے دل میں خوف پیدا ہوا تو اپنابازو بھینچ لیا کرو، اس سے تمہار دل قوی ہو جائے گا اور رعب و دہشت کی کوئی کیفیت تمارہے اندر باقی نہ رہے گی۔           بازو سے مراد غالباً سیدھا بازو ہے، کیونکہ مطلقاً ہاتھ بول کر سیدھا ہاتھ ہی مراد لیا جا تا ہے ۔ بھینجنے کی دو شکلیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ بازو کو پہلو کے ساتھ لگا کر دبا لیا جائے۔ دوسری یہ کہ ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ کی بغل میں رکھ دبایا جائے۔ اغلب یہ ہے کہ پہلی شکل ہی مراد ہوگی۔ کیونکہ اس صورت میں دوسرا کوئی شخص یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ آدمی اپنے دل کا خوف دور کرنے کے لیے کوئی خاص عمل کر رہا ہے۔           حضرت موسیٰؑ کو یہ تدابیر اس لیےبتائی گئی کہ وہ ایک ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی لاؤ لشکر اور دنیوی سازو سامان کے بغیر بھیجے جا رہے تھے۔ بار ہا ایسے خوفناک مواقع پیش آنے والے تھے جن میں ایک ا ولو العزم نبی تک دہشت سے محفوظ نہ رہ  سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی صورت پیش آئے ، تم بس یہ عمل کر لیا کرو، فرعون اپنی پوری سلطنت کا زور لگا کر بھی تمہارے دل کی طاقت کو متزلزل نہ  کر سکے گا۔
  • [3] یہ دونوں معجزے اس وقت حضرت موسیٰؑ کو اس لیے دکھائے گئے کہ اول تو انہیں خود پوری طرح یقین ہو جائے کہ فی الواقع وہی ہستی ان سے مخاطب ہے جو کائنات کے پورے نظام کی خالق و مالک اور فرماں روا ہے۔ دوسرے وہ ان معجزوں کو دیکھ کر مطمئن ہو جائیں کہ جس خطر ناک مشن پر انہیں فرعون کی طرف بھیجا جا رہا ہے  اس کا سامنا کرنے کے لیے وہ بالکل نہتے جائیں گے بلکہ دو زبر دست ہتھیار لے کر جائیں گے۔