Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 36

28:36
فَلَمَّا جَآءَهُم مُّوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّفۡتَرٗى وَمَا سَمِعۡنَا بِهَٰذَا فِيٓ ءَابَآئِنَا ٱلۡأَوَّلِينَ ٣٦
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔1 اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔2
Footnotes
  • [1] اصل الفاظ ہیں سِحْرٌ مُّفْتَرًی ”افترا کیا ہوا جادو“۔اس افترا کو اگر جھوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ لاٹھی کا اژدہا بننا اور ہاتھ کا چمک اٹھنان نفس شے میں حقیقی تغیر نہیں ہے بلکہ محض ایک نمائشی شعبدہ ہے جسے یہ شخص معجزہ کہہ کر ہمیں دھوکا دے رہا ہے ۔ اور اگر اسے بناوٹ کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ یہ شخص کسی کر تب سے ایک ایسی چیز بنا لا یا ہے جو دیکھنے میں لاٹھی معلوم ہوتی ہے مگر جب یہ اسے پھینک دیتا ہے تو سانپ نظر آنے لگتی ہے ۔ اور اپنے ہاتھ پر بھِ اس نے کوئی ایسی چیز مل لی ہے کہ اس کی بغل سے نکلنے کے بعد وہ یکایک چمک اٹھتا ہے ۔ یہ مصنوعی طلسم ا نے خود تیار کیا ہے، اور ہمیں یقین یہ دلارہا ہے کہ معجزے ہیں جو خدا نے اسے عطا کیے ہیں۔
  • [2] اشارہ ہے اُن باتوں کی طرف جو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں حضرت موسیٰؑ نے پیش کی تھیں ۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر ان باتوں کی تفصیل دی گئی ہے۔ النازعات میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نے اس سے کہا: ھَلْ لَّکَ اِلٰی اَنْ تَزَکّٰی، وَاَھْدِیَکَ اِلیٰ رَبِّکَ فَتَحْشٰی، ”کیا تو پاکیزہ روش اختیار کرنے پر آمادہ ہے ؟ اور میں تجھے تیرے رب کی راہ بتاؤں تو خثیت اختیار کر ے گا“؟ سورہ طٰہٰ میں ہے کہ قَدْ جِئْنَا کَ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَبِّکَ وَالسَّلَامُ عَلیٰ مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی، اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَآ اَنَّ الْعَذَابَ عَلیٰ مَنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی، ”ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لائے ہیں، اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے  اور ہم پر وحی کی گئی ہے  کہ سزا ہے اس کے جوجھٹلائے اور منہ موڑے “۔ اور اِنَّا رَسُوْلَارَبِّکَ فَاَ رْ سِلْ مَعَنَا بِنِیْ اِسْرَآءِیْلَ”ہم تیرے رب کی پیغمبر ہیں ، تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دے“۔ انہی باتوں سے متعلق فرعون نے کہا کہ ہمارے باپ دادا نے بھی کبھی یہ نہیں سنا تھا کہ فرعونِ مصر سے اوپر بھی کوئی ایسی مقتدر ہستی ہے جو اس کو حکم دینے کی مجاز ہو ، جو اسے سزا دے سکتی  ہو ، جو اسے ہدایات دینے کے لیے کسی آدمی کو اس کے دربار میں بھیجے، اور جس سے ڈرنے کے لیے مصر کے بادشاہ سے کہاجائے۔ تو نرالی باتیں ہیں جو آج ہم ایک شخص کی زبان سے سُن رہے ہیں۔