Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 38

28:38
وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمَلَأُ مَا عَلِمۡتُ لَكُم مِّنۡ إِلَٰهٍ غَيۡرِي فَأَوۡقِدۡ لِي يَٰهَٰمَٰنُ عَلَى ٱلطِّينِ فَٱجۡعَل لِّي صَرۡحٗا لَّعَلِّيٓ أَطَّلِعُ إِلَىٰٓ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُۥ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٣٨
اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔1 ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“2
Footnotes
  • [1] یہ اسی قسم کی ذہنیت تھی جیسی موجودہ زمانے کے روسی کمیونسٹ ظاہر کر رہے ہیں ۔ یہ اسپٹنک اور ٹونِک چھوڑ کر دنیا کو خبر دیتے ہیں کہ ہماری اِن گیندوں کو اوپر کہیں خدا نہیں ملا۔ وہ بے وقوف ایک مینار ے پر چڑھ کر خدا کو جھانکنا چاہتا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ گمراہ لوگوں کے ذہن کی پرواز ساڑھے تین ہزار برس پہلے جہاں تک تھی آج بھی وہیں تک ہے۔ اس اعتبار سے ایک اُنگل بھر ترتی بھی وہ نہیں کر سکتے ہیں۔ معلوم میں کس احمق نے اِن کو یہ خبر دی تھی کہ خدا پرست لوگ جس ربّ العالمین کو مانتے ہیں وہ اُن کے عقیدے کی رو سے اوپر کہیں بیٹھا ہوا ہے، اور اِس اتھاہ کائنات میں زمین سے چند ہزار فیٹ یا چند لاکھ میل اوپر اُٹھ کر اگر وہ انہیں نہ ملے تو یہ بات گویا بالکل ثابت ہو جائے گی   کہ وہ کہیں موجودہ نہیں ہے۔           قرآن یہاں نہیں کہتا کہ فرعون نے فی الواقع ایک عمارت اس غر ض کے لیے بنوائی تھی  اور اس پر چڑھ کر خدا کو جھانکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ بلکہ وہ اُس کے صرف اس قول کو نقل کرتا ہے۔ اِس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے عملاً یہ حماقت نہیں کی تھی۔ اِن باتوں سے اس کا مدعا صرف بے وقوف بنا نا تھا۔            یہ امر بھی واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ ف رعون آیا فی الواقع خدا وندِ عالم کی ہستی کا منکر تھا یا محض ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر دہریت کی باتیں کرتا تھا۔ اس کے اقوال اس معامہ میں اُسی ذہنی  الجھاؤ کی نشان دہی کرت ہیں جو روسی کمیونسٹوں کی باتوں میں پایا جاتا ہے ۔ کبھی تو  وہ آسمان پر چڑھ کر دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ میں اوپر دیکھ  آیا ہوں، موسیٰ کا خدا کہیں نہیں ہے ۔ اور کبھی وہ کہتا فَلَوْْلَآ اُلْقِیَ عَلَیْہِ اَسْوِ رَۃ مِّنْ ذَھَب اَوْجَآ ءَ مَعَہُ الْمَلٰئِکَۃُ مُقْتَرِنِیْنَ”اگر موسیٰ واقعی خدا کا بھیجا ہوا ہے تو کیوں نہ اُ س کے لیے سونے کے کنگن اتارے گئے، یا اس  کی اردلی میں ملائکہ  نہ آئے“؟ یہ باتیں روس کے ایک سابق وزیر اعظم خرو شچیف کی باتوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں جو کبھی خدا کا انکار کرتا اور کبھی بار بار خدا کا نام لیتا اور اس کے نام کی قسمیں کھاتا تھا۔ ہمارا قیاس یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے خلفاء کا دورِ اقتدار گزر جانے کے بعد جب مصر میں قبطی قوم پرستی کا زور ہوا اور ملک میں اِسی نسلی و  وطنی تعصّب کی بنیاد پر سیاسی انقلاب رونما  ہو گیا تو نئے لیڈروں نے اپنے قوم ستانہ جوش میں اُس خدا کے خلاف بھی بغاوت کر دی جس کو ماننے کی دعوت حضرت یوسفؑ اور ان کے پیرو اسرائیلی اور مصری مسلمان دیتے تھے ۔ انہوں  نے یہ سمجھآ کہ خدا کو مان کر ہم یوسفی تہذیب کے اثر سے  نہ نکل سکیں گے، اور یہ تہذیب باقی رہی تو ہمارا سیاسی اثر بھی مستحکم نہ ہو سکے گا۔ وہ خدا کے اقرار اور مُسْلم اقتدار کو لازم و ملزوم سمجھتے تھے، اس لیے ایک پیچھتا چھڑانے کی خاطر دوسرے کا انکار ان کے  نزدیک ضرور ی تھا، اگر چہ اس کا اقرار ان کے دل کی گہرائیوں سے کسی طرح نکالے نہ نکلتا تھا۔
  • [2] اس قول سے فرعون کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں تھا اور نہیں ہو سکتا تھا کہ میں ہی تمہارا اور زمین و آسمان کا خالق ہوں ، کیونکہ ایسی بات صرف ایک پاگل ہی کے منہ سے نکل سکتی تھی۔ اور اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہو سکتا تھا کہ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے، کیونکہ اہلِ مصر کے مذہب میں بہت سے معبودوں کی پرستش ہوتی تھی اور خود فرعون کو جس بنا پر معبود یت کا مرتبہ دیا گیا تھا وہ بھی صرف یہ تھی کہ اسے سُورج دیوتا کا اوتار مانا جاتا تھا۔ سب سے بڑی شہادت قرآن مجید  کی موجود ہے کہ فرعون خود بہت سے دیوتاؤں کا پرستار تھا: وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسیٰ وَقَوْمَہٗ لِیُفْسِدُوْ ا فِی الْاَرْضِ وَیَذَرَکَ وَاٰلِھَتَکَ،”اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے کیا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوٹ دے دیگا  کہ ملک میں فساد برپا کر یں اور تجھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں ؟(الاعراف،آیت127)۔ اس لیے لامحالہ یہاں فرعون نے لفظ”خدا“ اپنے لیے بمعنی خالق و معبود نہیں بلکہ بمعنی مطاع و حاکمِ مطلق استعمال کیا تھا۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ اس سر زمین ِ مصر کا مالک میں ہوں ، یہاں میرا حکم چلے گا۔ میرا ہی قانون یہاں قانون مانا جائے گا۔ میری ذات ہی یہاں امر ونہی کا سرچشمہ تسلیم کی جائے گی۔ کوئی دوسرا یہاں حکم چلانے کا مجاز نہیں ہے ۔ یہ موسیٰ کون ہے  جو رب العالمین کا نمائندہ بن کر آکھڑا ہوا ہے اور مجھے اس طرح احکام سنا رہا ہے کہ گویا اصل فرمانروا یہ ہے  اور میں اس کا تابع فرمان ہوں ۔ اسی بنا پر اس نے اپنے دربار کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا تھا یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہٖ الْاَنْھَا رُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ،”اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے تحت جاری نہیں ہیں“؟(الزخرف، آیت51) اور اسی بنا پر وہ حضرت موسیٰؑ سے بار بار کہتا تھا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدُنَا عَلَیْہِ اٰبَآ ءَنَا وَتَکُوْنَ لَکُمَا الْکِبْرِیَآ ءُ فِی الْاَرْضِ، ”کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے ہٹا دے جو ہمارے باپ دادا کے زمانے سے چلا آرہا  ہے اور اس ملک میں بڑائی تم دونوں بھائیوں کی ہو جائے“؟(یونس، آیت78) اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِ کَ یٰمُوْسٰی،” اے موسیٰ کیا تو اس لیے آیا ہے  کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہماری زمین سے بے دخل کر دے“؟(طٰہٰ۔آیت57)۔  اِنِّیْٓ اَخَا فُ اَنْ یُّبْدِّ لَ دِیْنَکُمْ اَوْ اَنْ یُّظْھِرَ فِی الْارْضِ الْفَسَادَ، ” میں ڈرتا ہوں کہ یہ شخص تم لوگوں کا دین بدل ڈالیگا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا“(المومن۔ آیت2۶)۔           اس لحاظ سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کی پوزیشن اُن ریاستوں کی پوزیشن سے کچھ بھی مختلف نہیں ہے جو خدا کے پیغمبر کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد خود مختیار ہو کر اپنی سیاسی اور قانونی حاکمیت کی مدعی ہیں۔ وہ خواہ سرچشمہ قانون اور صاحبِ قانون امر ونہی کسی بادشاہی کو مانیں یا قوم کی مرضی کو، بہر حال جب تک وہ یہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک میں خدا اور اس کے رسول کا نہیں بلکہ ہمارا حکم چلے گا اس وقت تک ان کے اور فر عون کے موقف  میں کوئی  اصولی فرق نہیں ہے  ۔ اب یہ الگ بات ہے کہ بے شعور لوگ فرعون پر لعنت بھیجتے  رہیں اوراِن کو سندِ جواز عطا کرتے رہیں۔ حقائق کی سمجھ بوجھ رکھنے والا آدمی تو معنی اور روح کو دیکھے گا نہ کہ الفاظ اور اصطلاحات کو۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ فرعون نے اپنے لیے ”اِلٰہ“کالفظ استعمال کیا تھا، اور یہ اس معنی میں ”حاکمیت “اصطلاح استعمال کرتی ہیں۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن  جلد سوم ، سورہ طٰہٰ ۔ حاشیہ 21)۔