Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 54

28:54
أُوْلَٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ يُنفِقُونَ ٥٤
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا1 اُس  ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔2 وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں3 اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔4
Footnotes
  • [1] یعنی وہ راہ ِ حق میں مالی ایثار بھی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس میں اشارہ اس طرف بھی ہو کہ وہ لوگ محض حق کی تلاش میں حبش سے فر کر کے مکے آئے تھے۔ اس محنت اور صرفِ مال سے کوئی مادّی منفعت ان کے پیش نظر نہ تھی۔ انہوں نے جب سنا کہ مکہ میں ایک شخص نےنبوت کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے ضروری سمجھا کہ خود جا کہ تحقیق کریں تا کہ اگر واقعی ایک نبی ہی خدا کی طرف سے مبعوث ہوا ہو تو وہ اس پر ایمان لانے اور ہدایت پانے محروم نہ رہ جائیں۔
  • [2] یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گرو ہی تعصبات سے بچ کر اصل دینِ حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آمد پر جو  سخت در پیش ہوا اس میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ دراصل وہ مسیح پرست نہیں  بلکہ خدا پرست تھے، اور شخصیتِ مسیح کےگرویدہ نہیں بلکہ ”اسلام“ کےمتبع تھے، اسی وجہ سے مسیح کے بعد جب دوسرا نبی  وہی اسلام کے کر آیا جسے مسیح لائے تھے تو انہوں نے بے تکلف اس کی رہنمائی میں اسلام کا راستہ اختیار کر لیا اور اُ ن لوگوں کا راستہ چھوڑ دیا جو مسیحیت پر جمے رہ گئے۔
  • [3] یعنی ایک اجر اُس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے  جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  ثلٰثۃ لھم اجران، رجل من اھل الکتب اٰمن بنبیہ واٰمن بمحمدؐ۔۔۔۔”تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا ۔ ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھآ اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد  صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا“۔
  • [4] یعنی وہ بدی  کا جواب بدی سے نہیں بلک نیگی سے دیتے ہیں ۔ جھوٹ کے مقابلے میں جھوٹ نہیں بلکہ صداقت لاتے ہیں۔ ظلم کو ظلم سے نہیں بلکہ انصاف سے دفع کر تے ہیں۔ شرارتوں کا سامنا شرارت سے نہیں بلکہ شرافت سے کرتے ہیں۔