Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 63

28:63
قَالَ ٱلَّذِينَ حَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡقَوۡلُ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَغۡوَيۡنَآ أَغۡوَيۡنَٰهُمۡ كَمَا غَوَيۡنَاۖ تَبَرَّأۡنَآ إِلَيۡكَۖ مَا كَانُوٓاْ إِيَّانَا يَعۡبُدُونَ ٦٣
یہ قول جن پر چسپاں ہوگا1 وہ کہیں گے”اے ہمارے ربّ ، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنےبراءت کا اظہار کرتے ہیں۔2 یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔“3
Footnotes
  • [1] یعنی ہم نے زبر دستی اِن کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے نہ اِن سے بینائی اور سماعت سلب کی تھی، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھی، اور نہ ایسی ہی کوئی صورت پیش آئی تھی کہ  یہ توارہِ راست کی طرف جانا چاہتے ہوں مگر ہم ان کا ہاتھ پکڑ کر جبراً انہیں غلط راستے پر کھینچ لے گئے ہوں۔ بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اِن کے سامنےبھی ہم نے گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اس کو قبول کیا۔ لہٰذا ہم ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور یہ اپنے فعل کے ذمہ دار۔           یہاں یہ لطیف نکتہ  قابلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھیرانے والوں  سے ۔ مگر قبل اس کے کہ یہ کچھ بولیں، جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھیرا یا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر اور پیسوا محسوس کریں گے کہ اب آگئی ہماری شامت ۔ یہ ہمارے سابق پروضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری  گمراہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس لیے پیرووں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت  کر کے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کر دیں گے۔
  • [2] یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔
  • [3] اس سے مراد وہ شیاطین جِن و انس ہیں جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا گیا تھا، جن کی بات مقابلے میں خدا اور اس کے رسولوں کی بات کو روکا گیا تھا، اور جن کے اعتماد پر صراط مستقیم کو چھوڑ کر زندگی کے غلط راستے اختیار کیے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو خواہ کسی نے الٰہ اور رب کہا ہو یا نہ کہا ہو،بہر حال جب ان کی اطاعت و پیروی اُس طرح کی گئی جیسی خدا کی ہونی چاہیے تو لازماً انہیں خدائی میں شریک  کیا گیا۔(تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف حاشیہ 5۰)۔