Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 68

28:68
وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُۗ مَا كَانَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٦٨
تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،1 اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
Footnotes
  • [1] یہ ارشاد در اصل شرک کی تردید  میں ہے ۔ مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بے شمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے  جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں ، اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں ، جِنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم  خود جس کو جیسے چاہتے ہیں  اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہیں مشکل کشا ، جیسے چاہیں گنج بخش  اور جسے چاہیں فریاد رس قرار دے لیں؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے چاہیں روزگار یا اولاد بخشنے  والا، جسے چاہیں بیماری و صحت کا مالک بنا دیں؟ جسے چاہیں میری خدائی کے کسی حصے کا فرماں روا ٹھیرا لیں؟ اور میرے  اختیارات میں جو کچھ جس کو چاہیں سونپ دیں؟ کوئی فرشتہ ہو یا جن یا نبی یا ولی ، بہر حال جو بھی ہے ہمارا پیدا کیا ہوا ہے۔ جو کمالات بھی کسی کو ملے ہیں ہماری عطا وبخشش سے ملے ہیں۔ اور جو خدمت بھی ہم نے جس سے لینی چاہی  ہے لی ہے ۔ اس برگزیدگی کے یہ معنی آخر کیے ہوگئے کہ یہ بندے بندگی کے مقام سے اٹھا کر خدائی کے مرتبے  پر پہنچا دیے جائیں اور خدا کو چھوڑ کر ان کے آگے سر نیاز جھکا دیا جائے، ان کو مدد کے لیے پکارا جانے لگے، ان سے حاجتیں طلب کی جانے لگیں، انہیں قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھ  لیا جائے، اور انہیں خدائی صفات و اختیارات کا حامل قرار دے دیا جائے؟