Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 76

28:76
۞ إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ ٧٦
یہ ایک واقعہ ہے1 کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔2 اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی۔3 ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ”پھُول نہ جا، اللہ پھُولنے والوں کو پسند نہیں کرتا
Footnotes
  • [1] قارون، جس کا نام بائیبل اور تلمود میں قورح (Korah ) بیان کیا گیا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا۔ بائیبل کی کتاب خروج (باب۶۔ آیت 21-18) میں جو نسب نامہ درج  ہے اس کی رو سے حضرت موسیٰؑ اور قارون کے والد باہم سگے بھائی تھے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ شخص بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون کے ساتھ جا ملا تھا اور اس کا مقرب بن کر اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کے مقابلے میں فرعون کے بعد مخالفت کے جو دو سب سے بڑے سرغنے تھے ان میں سے ایک یہی قارون تھا: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسیٰ بِاٰ یٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ،  اِلیٰ فِرْعَوْنَ وَھَامَانَ وَقَارُوْنَ فَقَالُوْا سٰحِرٌ کَذَّابٌ o (المومن۔ آیت 24-23) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں  اور کھلی دلیل کے  ساتھ فرعون اور ہامان اور قارون کی طرف بھیجا ، مگر انہوں نے کہا کہ یہ ایک جادو گر ہے سخت جھوٹا۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ قارون اپنی قوم سے باغی ہو کر اُس دشمن طاقت کا پٹھو بن گیا تھا جو بنی اسرائیل کو جڑ بنیاد سے ختم کر د ینے پر تُلی ہوئی تھی۔ اور اس قومی غداری کی بدولت اس نے فرعونی سلطنت میں یہ مرتبہ  حاصل کر لیا تھا کہ حضرت موسیٰؑ فرعون کے علاوہ مصر کی جن دو بڑی ہستیوں کی طرف بھیجے گئے تھے وہ دو  ہی تھیں، ایک فرعون کا وزیر ہامان، اور دوسرا یہ اسرائیلی سیٹھ۔ باقی سب اعیان سلطنت اور درباری ان سے کم تر درجے میں تھے جن کا خاص طور پر نام لینے کی ضرورت نہ تھی۔ قارون کی یہی پوزیشن سورۂ عنکبوت کی آیت نمبر 39 میں بھی بیان کی گئی ہے۔
  • [2] یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اُسی عذر کے جواب میں بیان کیا جا رہا ہے جس پر یہ آیت57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے ۔ اس سلسلہ میں  یہ بات ملحوظ خاطررہے کہ جن لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیاتھا وہ در اصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارونِ وقت بنا رکھا تھا۔ یہ لوگ اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہےکہ زیادہ سے زیادہ  دولت سمیٹو۔ اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزوں بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ان کی غایت تمنا بس یہ تھی کہ جس بلندی پر یہ لوگ پہنچے ہوئے ہیں، کاش ہمیں بھی اس تک پہنچنا نصیب ہو جائے۔ اس زر پرستی کے ماحول  میں یہ دلیل بڑی وزنی سمجھی جا رہی تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس توحید و آخرت کی، اور جس ضابطہ اخلاق کی دعوت دے رہے ہیں اسے مان لیا جائے تو قریش کی عظمت کا یہ فلک بوس قصر زمین پر آ رہے گا اور تجارتی کاروبار تو درکنار جینے تک کے لالے پڑ جائیں گے۔
  • [3] بائیبل (گنتی، باب1۶) میں اس کا جو قصہ بیان کیا گیا ہے  اس میں اس شخص کی دولت کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہودی روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص غیر معمولی دولت کا مالک تھا حتیٰ کہ اس کےخزانوں کی کنجیاں اُٹھانے کے لیے تین سو خچر درکار ہوتے تھے(جیوش انسائیکلو پیڈیا، ج7،ص55۶) یہ بیان اگر چہ انتہائی مبالغہ آمیز ہے، لیکن اس سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اسرائیلی روایات کی رو سے بھی قارون اپنے وقت کا بہت بڑا دولت مند آدمی تھا۔