Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Qasas — Ayah 78

28:78
قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمٍ عِندِيٓۚ أَوَلَمۡ يَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ قَدۡ أَهۡلَكَ مِن قَبۡلِهِۦ مِنَ ٱلۡقُرُونِ مَنۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُ قُوَّةٗ وَأَكۡثَرُ جَمۡعٗاۚ وَلَا يُسۡـَٔلُ عَن ذُنُوبِهِمُ ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٧٨
تو اُس نے کہا”یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے“1۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟2 مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے۔3
Footnotes
  • [1] یعنی مجرم تو یہی دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ ہم بڑے اچھے لوگ ہیں ۔ وہ کب مانا کرتے ہیں کہ ان کے اندر کوئی برائی ہے ۔ مگر ان کی سزا ان کے اپنے اعترا پر منحصر  نہیں ہوتی۔ انہیں جب پکڑا جاتا ہے تو ان سے پوچھ کر نہیں پکڑا جاتا کہ بتاؤ تمہارے گناہ کیا ہیں۔
  • [2] یعنی یہ شخص جو بڑا عالم و فاضل اور دانا و خبر بنا پھر رہا تھا اور اپنی قابلیت کا یہ کچھ غَرَّہ رکھتا تھا ، اس کے علم میں کیا یہ بات کبھی نہ آئی تھی کہ اُس سے زیادہ دولت و حشمت اور قوت و شوکت والے اس سے پہلے دنیا میں گزر چکے ہیں اور اللہ نے انہیں آخر کار تباہ و برباد کر کے رکھ دیا؟ اگر قابلیت اور ہنر مندی ہی دنیوی عروج کے لیے کوئی ضمانت ہے تو ان کی یہ صلاحیتیں اُ س وقت کہاں چلی گئی تھیں جب وہ تباہ ہوئے؟ اور اگر کسی کو دنیوی عروج نصیب ہونا لازماً اسی بات کا ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوش ہے اور اس کے اعمال و اوصاف کو پسند کرتا ہے تو  پھر اُن لوگوں کی شامت کیوں آئی؟
  • [3] اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلْمٍ عِنْدِیْ۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے ، یہ کوئی فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا  ہو اور  اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نا اہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طورپر  اس میں سے کچھ دوں ، یا کوئی خیر خیرات اس غرض کے لیے کر وں کہ یہ فضل  مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہےمیرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے۔ اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ کچھ مجھے کیوں دیتا۔ مجھ پر اس کی نعمتوں کی بارش ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ میں اس کا محبوب ہوں اور میری روش اس کو پسند ہے۔