یہاں سے لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (ان کے لیے دردناک سزا ہے) تک ایک جملۂ معترضہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ کے قصّے کا سلسلہ توڑ کر اللہ تعالیٰ نے کفار ِ مکہ کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا ہے۔ اس اعتراضی تقریر کی مناسبت یہ ہے کہ کفارِ مکّہ ، جنہیں سبق دینے کے لیے یہ قصّہ سنایا جارہا ہے ، دو بنیادی گمراہیوں میں مبتلا تھے۔ ایک شرک و بت پرستی ۔ دوسرے انکارِ آخرت۔ ان میں سے پہلی گمراہی کا رد حضرت ابراہیمؑ کی اس تقریر میں آچکا ہے جو اوپر نقل کی گئی ہے۔ اب دوسری گمراہی کے رد میں یہ چند فقرے اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ارشاد فرما رہا ہے تا کہ دونوں کی تردید ایک ہی سلسلہ کلام میں ہو جائے۔
یعنی ایک طرف بے شمار اشیاء عدم سے وجود میں آتی ہیں، اور دوسری طرف ہر نوع کے افراد کے مٹنے کے ساتھ پھر ویسے ہی افراد وجود میں آتے چلے جاتے ہیں۔ مشرکین اس بات کو مانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کی صفتِ خلق و ایجاد کا نتیجہ ہے۔ انہیں اللہ کے خالق ہونے سے انکار نہ تھا ، جس طرح آج کے مشرکین کو نہیں ہے۔ اس لیے ان کی اپنی مانی ہوئی بات پر یہ دلیل قائم کی گئی ہے کہ جو خدا تمہارے نزدیک اشیاء کو عدم سے وجود میں لاتا ہے ، اور پھر ایک دفعہ تخلیق کر کے نہیں رہ جاتا بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مٹ جانے والی اشیاء کی جگہ پھر ویسی ہی اشیاء پے در پے وجود میں لاتا چلا جاتا ہے، اس کے بارے میں آخر تم نے یہ کیوں سمجھ رکھا ہے کہ تمہارے مر جانے کے بعد وہ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا کھڑا نہیں کر سکتا ۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ نمل، حاشیہ نمبر 8۰)۔