یہاں سے پھر سلسلۂ کلام حضرت ابراہیمؑ کے قصّے کی طرف مُڑتا ہے۔
یعنی حضرت ابراہیمؑ کے معقول دلائل کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ ان کا جواب اگر تھا تو یہ کہ کاٹ دو اُس زبان کو جو حق بات کہتی ہے اور جینے نہ دو اس شخص کو جو ہماری غلطی ہم پر واضح کرتا ہے اور ہمیں اس سے باز آنے کے لیے کہتا ہے۔ ”قتل کر دو یا جلا ڈالو“ کے الفاظ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پورا مجمع اس بات پر تو متفق تھا کہ حضرت ابراہیمؑ کو ہلاک کر دیا جائے، البتہ ہلاک کرنے کے طریقے میں اختلاف تھا۔ کچھ لوگوں کی رائے یہ تھی کہ قتل کیا جائے ، اور کچھ کی رائے یہ تھی کہ زندہ جلا دیا جائے تا کہ ہر اُس شخص کو عبرت حاصل ہو جسے آئندہ کبھی ہماری سرزمین میں حق گوئی کا جنون لاحق ہو۔
اس فقرے سے خود بخود یہ بات نکلتی ہے کہ ان لوگوں نے آخر کار حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ آگ میں پھینک دے گئے تھے ۔ یہاں بات صرف اتنی کہی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ سے بچا لیا۔ لیکن سورۃ الانبیاء میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ آگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ کے لیے ٹھنڈی اورغیر مضر ہو گئی، قُلْنَا یٰنَا رُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَا مًا عَلیٰٓ اِبْرَاھِیْمَ (آیت ۶9)۔ ” ہم نے کہا کہ اے آگ ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر۔“ ظاہر ہے کہ اگر اُن کو آگ میں پھینکا ہی نہ گیا ہو تو آگ کو یہ حکم دینے کے کوئِ معنی نہیں ہیں کہ تو ان پر ٹھنڈی ہو جا اور ان کے لیے سلامتی بن جا۔ اس سے یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ تمام اشیاءکی خاصیتیں اللہ تعالیٰ کے حکم پر مبنی ہیں، اور وہ جس وقت جس چیز کی خاصیت کو چاہے بدل سکتا ہے ۔ معمول کے مطابق اگ کا عمل یہی ہے کہ وہ جلائے اور ہر آتش پذیر چیز اس میں پڑ کر جل جائے۔ لیکن آگ کا یہ معمول اس کا اپنا قائم کیا ہوا نہیں ہے بلکہ خدا کا قائم کیا ہوا ہے۔ اور اس معمول نے خدا کو پابند نہیں کر دیا ہے کہ وہ اس کے خلاف کوئی حکم نہ دے سکے۔ وہ اپنی آگ کا مالک ہے۔ کی وقت بھی وہ اسے حکم دے سکتا ہے کہ وہ جلا نے کا عمل چھوڑ دے۔ کسی وقت بھی وہ اپنے ایک اشارے سے آتش کدے کو گلزار میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ غیر معمولی خَرقِ عادت اس کے ہاں روز روز نہیں ہوتے۔ کسی بڑی حکمت اور مصلحت کی خاطر ہی ہوتے ہیں۔ لیکن معمولات کو ، جنہیں روز مرّہ دیکھنے کے ہم خوگر ہیں، اس بات کے لیے ہر گز دلیل نہیں ٹھیرایا جا سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اُن سے بندھ گئی ہے اور خلافِ معمول کوئی واقعہ اللہ کے حکم سے بھی نہیں ہو سکتا۔
یعنی اہلِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں اس بات میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خاندان، قوم اور ملک کے مذہب کی پیروی کرنے کے بجائے اس علمِ حق کی پیروی کی جس کی رو سے انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ شرک باطل ہے اور توحید ہی حقیقت ہے۔ اور اِس بات میں کہ وہ قوم کی ہٹ دھرمی اور اس کے شدید تعصب کی پروا کیے بغیر اس کو باطل سے باز آجانے اور حق قبول کر لینے کے لیے پیہم تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس بات میں کہ وہ آگ کی ہولناک سزا برداشت کرنے کے لیے تیار ہو گئے مگر حق و صداقت سے منہ موڑنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اور اِس بات میں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام تک کو آزمائشوں سے گزارے بغیر نہ چھوڑا۔ اور اس بات میں کہ جب حضرت ابراہیم ؑ اللہ کے ڈالے ہوئے امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرے گئے تب اللہ کی مدد ان کے لیے آئی اور ایسے معجزانہ طریقہ سے آئی کہ آگ کا الاؤ ان کے لیے ٹھنڈا کر دیا گیا۔