Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-'Ankabut — Ayah 27

29:27
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ إِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَ وَءَاتَيۡنَٰهُ أَجۡرَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ٢٧
اور ہم نے اُسے اسحاقؑ  اور یعقوبؑ (جیسی اولاد)عنایت فرمائی1 اور اُس کی نسل میں نبوّت اور کتاب رکھ دی،2 اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا۔3
Footnotes
  • [1] مقصود بیان یہ ہے کہ بابِل کے وہ حکمراں اور پنڈت اور پروہت جنہوں نے ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو نیچا دکھانا چاہا تھا ، اور اس کے وہ مشرک باشندے جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ان ظالموں کی پیروی کی تھی، وہ تو دنیا سے مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج دنیا میں  کہیں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ۔ مگر وہ شخص جسے اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں ان لوگوں نے جلا کر خاک کر دینا چاہا تھا ، اور جسے آخر کار بے سروسامانی کے عالم میں وطن سے نِکل جانا پڑا تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ چار ہزار برس سے دنیا میں اس کا نام روشن ہے اور قیامت تک رہے گا۔ دنیا کے تمام مسلمان ، عیسائی اور یہودی اُس خلیل ِ ربّ العالمین کو بالاتفاق اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ دنیا کو ان چالیس صدیوں میں جو کچھ بھی ہدایت کی روشنی میسر آئی ہے اسی ایک انسان اور اس کی پاکیزہ اولاد کی بدولت میسّر آئی ہے۔ آخر ت میں جو اجر ِ عظیم اس کو ملے گا وہ تو ملے گا ہی ، مگر اِس دنیا میں بھی اس نے وہ عزّت پائی جو حصُولِ دنیا کے پیچھے جان کھپانے والوں میں سے کسی کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔
  • [2] اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسلِ ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے ہیں۔
  • [3] حضرت اسحاقؑ بیٹے تھے اور حضرت یعقوبؑ پوتے۔ یہاں حضرت ابراہیمؑ کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولادِ ابراہیمؑ کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیبؑ مبعوث ہوئے، اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک دھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک مسلسل اُس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق علیہ السلام سے چلی تھی۔