واضح رہے کہ آگے چل کر اِسی سورہ میں ہجرت کی تلقین کی جارہی ہے۔ اُس وقت حبش ہی ایک ایسا مامن تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جا سکتے تھے۔ اور حبش پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا۔ اس لیے اِن آیات میں مسلمانوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ اہلِ کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کریں۔
یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ، مہذب و شائستہ زبان میں، اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے ، تا کہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلا ح ہو سکے۔ مبلّغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہِ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ ِ خاطر رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے، اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفایاب ہو جائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہلِ کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے ، مگر یہ اہلِ کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ دی گئی ہے مثلاً:
اُدْعُ اِلیٰ سِبِیْلِ رَبِّکَ بِا لْحِکْمَۃِ وَالْمَوْ عِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَا دِلْہُمْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔ (النحل۔ آیت 125)۔
”دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پند و نصیحت کے ساتھ۔ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو۔“
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیَِّٔۃُ اِدْفَعْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ فَاِ ذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَ نَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌo (حم السجدہ ۔ آیت 34)
”بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں ( مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو ، تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔“
اِدْفَعْ بِا لَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ السَّیَِّٔۃَ ط نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ o (المومنون۔ آیت 9۶)
”تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمہارے خلاف) بناتے ہیں۔“
خُذِ الْعَفْوَ و َأْ مُرْ بِا لْعُرْ فِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجَا ھِلِیْنَ o وَاِمَّا یَنْزَ غَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَا سْتَعِذْ بِاللہِ۔ (الاعراف۔ آیات 199-2۰۰)
”درگزر کی روش اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کرو ، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو، اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے ) شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو۔“
یعنی جو لوگ ظلم کا رویّہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویّہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلہ میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعیِٔ حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیرووں کو شائستگی اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظاہر کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں۔
اِن فقروں میں اللہ تعالیٰ نے خود اُس عُمدہ طریقِ بحث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جسے تبلیغِ حق کی خدمت انجام دینے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جس شخص سے تمہیں بحث کرتی ہو اُس کی گمراہی کو بحث کا نقطۂ آغاز نہ بناؤ، بلکہ بات اِس سے شروع کرو کہ حق و صداقت کے وہ کونسے اجزاء ہیں جو تمہارے اور اس کے درمیان مشترک ہیں۔ یعنی آغازِ کلام نکاتِ اختلاف سے نہیں بلکہ نکاتِ اتفاق سے ہونا چاہیے، پھر انہی متفق علیہ امور سے استدلال کر کے مخاطب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن امور میں تمہارے اور ا کے درمیان اختلاف ہے ان میں تمہارا مسلک متفق علیہ بنیادوں سے مطابقت رکھتا ہے اور اس کا مسلک ان سے متضاد ہے۔
اس سلسلے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اہلِ کتاب مشرکینِ عرب کی طرح وحی و رسالت اور توحید کے منکر نہ تھے بلکہ مسلمانوں کی طرح اِن سب حقیقتوں کو مانتے تھے۔ اِن بُنیادی امور میں اتفاق کے بعد اگر کوئی بڑی چیز بنیادِ اختلاف ہو سکتی تھی تو وہ یہ کہ مسلمان ان کے ہاں آئی ہوئی آسمانی کتابوں کو نہ مانتے اور اپنے ہاں آئی ہو ئی کتاب پر ایمان لانے کی اُنہیں دعوت دیتے اور ان کے نہ ماننے پر انہیں کافر قرار دیتے۔ یہ جھگڑے کی بڑی مضبوط وجہ ہوتی۔ لیکن مسلمانوں کا موقف اس سے مختلف تھا۔ وہ تمام اُن کتابوں کو برحق تسلیم کرتے تھے جو اہلِ کتاب کے پاس موجود تھیں اور پھر اُس وحی پر ایمان لائے تھے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ بتانا اہلِ کتاب کا کام تھا کہ کس معقول وجہ سے وہ خدا ہی کی نازل کردہ ایک کتاب کو مانتے اور دوسری کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے کہ اہلِ کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو سب سے پہلے مثبت طور پر اپنا یہی موقف ان کے سامنے پیش کرو۔ ان سے کہو کہ جس خدا کو تم مانتے ہو اسی کو ہم مانتے ہیں اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ اس کی طرف سے جو احکام و ہدایات اور تعلیمات بھی آئی ہیں ان سب کے آگے ہمارا سر ِتسلیم خم ہے، خواہ وہ تمہارے ہاں آئی ہوں یا ہمارے ہاں۔ ہم تو حکم کے بندے ہیں۔ ملک اور قوم اور نسل کے بندے نہیں ہیں کہ ایک جگہ خدا کا حکم آئے تو ہم مانیں اور اُسی خدا کا حکم دوسری جگہ آئے تو ہم اس کو نہ مانیں۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ دہرائی گئی ہے اور خصوصًا اہلِ کتاب سے جہاں سابقہ پیش آیا ہے وہاں تو اسے زور دے کر بیان کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو البقرہ، آیات 4 – 13۶ – 177 – 285۔ آلِ عمران ، آیت 84۔ النساء، 13۶ – 15۰ تا 152- 1۶2 تا 1۶4، الشوریٰ 13۔