Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ar-Rum — Ayah 17

30:17
فَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمۡسُونَ وَحِينَ تُصۡبِحُونَ ١٧
1 پس تسبیح کرو اللہ کی2 جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو
Footnotes
  • [1]

    یہ ”پس“ اس معنی میں ہے کہ جب تمہیں یہ معلوم ہو گیا کہ ایمان و عمل صالح کا انجام وہ کچھ، اور کفر و تکذیب کا انجام یہ کچھ ہے تو تمہیں یہ طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ نیز یہ ”پس“ اس معنی میں بھی ہے کہ مشرکین و کفار حیاتِ اُخروی کو ناممکن قرار دے کر اللہ تعالیٰ کو دراصل عاجز و درماندہ قرار دے رہے ہیں۔ لہٰذا تم اس کے مقابلہ میں اللہ کی تسبیح  کرو اور اِس کمزوری سے اُس کے پاک  ہونے کا اعلان کرو۔ اس ارشاد کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم،  اور آپؐ کے واسطے سے تمام اہلِ ایمان ہیں۔

  • [2]

    اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد اُن تمام عیوب اور نقائص اور کمزوریوں سے ، جو مشرکین اپنے شرک اور انکارِ آخرت سے اللہ کی طرف منسُوب کرتے ہیں، اُس ذاتِ بے ہمتا کے پاک اور منزہ ہونے کا اعلان و اظہار کرنا ہے۔ اِس اعلان و اظہار کی بہترین صورت نماز ہے۔ اِسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قَتادہ، ابن زید اور دوسرے مفسّرین کہتے ہیں کہ یہاں تسبیح کرنے ے مراد نماز پڑھنا ہے۔ اس تفسیر کے حق میں یہ صریح قرینہ خود اس آیت میں موجود ہے کہ اللہ کی پاکی بیان کرنے کے لیے اِس میں چند خاص اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر محض یہ عقیدہ رکھنا مقصود ہو کہ اللہ تمام عیوب  ونقائص سے منزّہ ہے ، تو اس کے لیے صبح و شام اور ظہر و عصر  کے اوقات کی پابندی کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ عقیدہ تو مسلمان کو ہر وقت رکھنا چاہیے۔ اسی طرح اگر محض زبان سے اللہ کی پاکی  کا اظہار مقصود ہو، تب بھی اِن اوقات کی تخصیص کے کوئی معنی نہیں، کیونکہ یہ اظہار تو مسلمان کو ہر موقع پر کرنا چاہیے۔ اس لیے اوقات کی پابندی کے ساتھ تسبیح کرنے کا حکم لا محالہ اُس کی ایک خاص عملی صورت ہی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور یہ عملی صورت نماز کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔