Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Ar-Rum — Ayah 28

30:28
ضَرَبَ لَكُم مَّثَلٗا مِّنۡ أَنفُسِكُمۡۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِي مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ فَأَنتُمۡ فِيهِ سَوَآءٞ تَخَافُونَهُمۡ كَخِيفَتِكُمۡ أَنفُسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ لِقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ ٢٨
وہ تمہیں1 خود تمہاری اپنی ہی ذات سےایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟2 --۔۔۔۔ اس طرح ہم آیا ت کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں
Footnotes
  • [1] مشرکین یہ تسلیم کرنے کے بعد کہ زمین و آسمان اور اسکی سب چیزوں کا خالق و مالک اللہ تعالیٰ ہے، اُس کی مخلوقات  میں سے بعض کو خدائی صفات و اختیارات میں اس کا شریک ٹھیراتے تھے، اور ان سے دعائیں مانگتے ، ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے، اور مراسم عبودیت بجا لاتے تھے۔ اِن بناوٹی شریکوں کے بارے میں اُن کا اصل عقیدہ  اُس تَلبِیْہ کے الفاظ  میں ہم کو ملتا ہے جو خانۂ کعبہ کا طواف کرتے وقت وہ زبان سے ادا کرتے  تھے۔ وہ اس موقع پر کہتے تھے: لبّیک اللّٰہم  لبّیک لَا شریک لک الّا شریکا ھو لک تملکہ و ما ملک (طَبَرانی عن ابن عباس)۔”میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے اُس شریک کے جو تیرا اپنا ہے، تو اُس کا بھی مالک ہے اور جو کچھ اُس کی ملکیت ہے اس کا بھی تو مالک ہے۔“ اللہ تعالیٰ اِس آیت میں اِسی شرک کی تردید فرما رہا ہے۔ تمثیل کا منشا  یہ ہے کہ خدا کے دیے ہوئے مال میں خدا ہی کے پیدا کیے ہوئے وہ انسان جو اتفاقًا تمہاری غلامی میں آگئے ہیں تمہارے تو شریک نہیں قرار پا سکتے، مگر تم نے یہ عجیب دھاندلی مچا رکھی ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی کائنات میں خدا کی پیدا کردہ مخلوق کو بے تکلف اُس کے ساتھ خدائی کا شریک ٹھیراتے ہو۔ اس طرح کی احمقانہ باتیں سوچتے ہوئے آخر تمہاری عقل کہاں ماری جاتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، النَّحل، حاشیہ ۶2)۔
  • [2] یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان مِلا جُلا چل رہا  تھا۔ اس میں جن نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ان کے اندر توحید کے دلائل بھی ہیں اور وہی دلائی یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آخرت کا آنا غیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے بعد آگے خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔