Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Luqman — Ayah 18

31:18
وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٖ فَخُورٖ ١٨
اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر1 ، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔2
Footnotes
  • [1] اصل الفاظ ہیں مختال اور فخور۔مختال کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنی دانست میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو۔ اور فخور اس کو کہتے ہیں جو اپنی بڑائی کا دوسروں پر اظہار کرے ۔ آدمی چال میں اکڑ اور اتراہٹ اور تبختر کی شان لازماً اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے دماغ میں تکبر کی ہوا بھر جاتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو اپنی بڑائی محسوس کرائے ۔
  • [2] اصل الفاظ ہیں لَاتُصَعِّرْخَدَّکَ لِلنَّاسِ۔صَعَر عربی زبان میں ایک بیماری کو کہتے ہیں جو اونٹ کی گردن میں ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اُونٹ اپنا منہ ہر وقت ایک ہی طرف پھیرے رکھتا ہے ۔ اس سے محاورہ نِکلا فلان صعّر خدّہ،’’ فلاں شخص نے اونٹ کی طرح اپنا کلّا پھیر لیا ‘‘ یعنی تکبر کے ساتھ پیش آیا اور منہ پھیر کر بات کی۔ اسی کے متعلق قبیلۂ تغلب کا ایک شاعر عمرو بن حّی کہتا ہے ، وکنّا اذاالجبار صَعَّر خَدَّ   ٭  اقمنَا لہ من میْلہ فتقوّ مَا ہم ایسے تھے کہ جب کبھی کسی جبّار نے ہم سے بات کی تو ہم نے اس کی ٹیڑھ ایسی نکالی کہ وہ سیدھا ہو گیا۔‘‘