Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Luqman — Ayah 29

31:29
أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلّٞ يَجۡرِيٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى وَأَنَّ ٱللَّهَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٞ ٢٩
کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ  اللہ رات کو دن میں پروتا  ہؤالے آتا ہے اور دن کو راے میں۔ اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے1 ، سب ایک وقت مقرر تک چلے جا رہے ہیں2 ، اور (کیا تم نہیں جانتے) کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو  اللہ اس سے باخبر ہے
Footnotes
  • [1] یعنی ہر چیز کی جو مدّت مقرر کر دی گئی ہے اسی وقت تک وہ چل رہی ہے ۔ سورج ہو یا چاند ،یا کائنات کا کوئی اور تارا یا سے ّارہ ، ان میں سے کوئی چیز بھی نہ ازلی ہے نہ ابدی ۔ ہر ایک کا ایک وقت آغاز ہے جس سے پہلے وہ موجود نہ تھی، اور ایک وقت اختتام ہے جس کے بعد وہ موجود نہ رہے گی ۔ اس ذکر سے مقصود یہ جتانا ہے کہ ایسی حادث، اور بے بس چیزیں آخر معبود کیسے ہو سکتی ہیں۔
  • [2] یعنی رات اور دن کا پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ آنا خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ سورج اور چاند پوری طرح ایک ضابطہ میں کسے ہوئے ہیں ۔ سورج اور چاند کا ذکر یہاں محض اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں عالمِ بالا کی وہ نمایاں ترین چیزیں ہیں جن کو انسان قدیم زمانے سے معبود بناتا چلا آ رہا ہے اور آج بھی بہت سے انسان انھیں دیتا مان رہے ہیں ۔ ورنہ درحقیقت زمین سمیت کائنات کے تمام تاروں اور سیّاروں کو اللہ تعالیٰ نے ایک اٹل ضابطے میں کس رکھا ہے جس سے وہ یک سرِ مو ہٹ نہیں کر سکتے ۔