Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Ahzab — Ayah 13

33:13
وَإِذۡ قَالَت طَّآئِفَةٞ مِّنۡهُمۡ يَٰٓأَهۡلَ يَثۡرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمۡ فَٱرۡجِعُواْۚ وَيَسۡتَـٔۡذِنُ فَرِيقٞ مِّنۡهُمُ ٱلنَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوۡرَةٞ وَمَا هِيَ بِعَوۡرَةٍۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارٗا ١٣
جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ  ”اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو۔1“جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کررہا تھا کہ ”ہمارے گھر خطرے میں ہیں2 ،“حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے3 ، دراصل وہ (محاذِجنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے
Footnotes
  • [1] اس فقرے کے دو مطلب ہیں۔ ظاہری مطلب یہ ہے کہ خندق کے سامنے کفار کے مقابلے پر ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، شہر کی طرف پلٹ چلو۔ اور باطنی مطلب یہ ہے کہ اسلام پر ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، اب اپنے آبائی مذہب کی طرف پلٹ جانا چاہیے تاکہ سارے عرب کی دمنی مول لے کر ہم نے جس خطرے میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے اُس سے بچ جائیں۔ منافقین اپنی زبان سے اس طرح کی باتیں اس لیے کہتے تھے کہ جو ان کے دام میں آ سکتا ہو اس کو تو اپنا باطنی مطلب سمجھا دیں ، لیکن جو ان کی بات سُن کر چوکناّ ہو اور اس پر گرفت کرے اس کے سامنے اپنے ظاہر الفاظ کی آڑ لے کر گرفت سے بچ جائیں۔
  • [2]  یعنی اس خطرے سے بچاؤ کا انتظام تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کر چکے تھے۔ یہ انتظام بھی دفاع کی اُس مجموعی  سکیم ہی کا ایک حصّہ تھا جس پر سالار لشکر کی حیثیت سے حضورؐ عمل فرما رہے تھے۔ اس لیے کوئی فوری خطرہ اس وقت نہ تھا جس کی بنا پر ان کا یہ عذر کسی درجے میں بھی معقول ہوتا۔
  • [3] یعنی جب بنو قریظہ بھی حملہ آوروں کے ساتھ کل گئے تو ان منافقین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے لشکر سے نکل بھاگنے کے لیے ایک اچھا بہانہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے یہ کہہ کر رخصت طلب کرنی شروع کی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑ گئے ہیں ، لہٰذا ہمیں جا کر اپنے بال بچوں کی حفاظت کرنے کا موقع دیا جائے۔ حالانکہ اُس وقت سارے اہل مدینہ کی حفاظت کے ذمّہ در رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تھے۔ بنی قریظہ کے بد عہدی سے جو خطرہ بھی پیدا ہوا تھا اس سے شہر اور اس کے باشندوں کو بچانے کی تدبیر کرنا حضورؐ کا کام تھ نہ کہ فوج کے ایک ایک فرد کا۔