Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Al-Ahzab — Ayah 5

33:5
ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا ٥
منہ بولے بیٹو ں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔1 اور اگے تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔2 نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے،لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔3 اللہ درگزر  کرنے والا اور رحیم ہے۔4
Footnotes
  • [1] اس حکم کی تعمیل میں سب سے پہلے جو اصلاح نافذ کی گئی وہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کو زید بن محمدؐ کہنے کے بجائے ان کے حقیقی باپ کی نسبت سے زید بن حارثہ کہنا شروع کر دیا گیا۔ بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ اور نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے یہ روایات نقل کی ہے کہ زید بن حارثہ کو پہلے سب لوگ زید بن محمدؐ کہتے تھے۔ یہ آیت نازل ہونے کے بعد انہیں زید بن حارثہ ؓ کہنے لگے۔ مزید بر آں اس آیت کے نزول کے بعد یہ بات حرام قرار دے دی گئی کہ کو ئی شخص اپنے حقیقی باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے۔ بخاری و مسلم اور ابو داؤد نے حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت نقل کی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : من ادعیٰ الیٰ غیر ابیہ وھویعلم انہ غیر ابیہ فالجنتہ علیہ حرام۔’’جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بٹیا کہا ‘ در آنحالیکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اس کا باپ نہیں ہے ‘ اس پر جنت حرام ہے ‘‘۔ اسی مضمون کی دوسری روایات بھی احادیث میں ملتی ہیں۔جن میں اس فعل کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔
  • [2] یعنی اس صورت میں بھی یہ درست نہ ہو گا کہ کسی شخص سے خواہ مخواہ اس کا نسب ملایا جائے۔
  • [3] اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ پہلے اس سلسلے میں جو غلطیاں کی گئی ہیں ان کو اللہ نے معاف کیا۔ ان پر اب کوئی باز پُرس نہ ہو گی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نا دانستہ افعال پر گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ اگر بِلا ارادہ کوئی ایسی بات کے جائے جس کی ظاہری صورت ایک ممنوع فعل کی سی ہو ، مگر اس میں درحقیقت اس ممنوع فعل کی نیت نہ ہو ، تو محض فعل کی ظاہری شکل پر اللہ تعالیٰ سزا نہ دے گا۔
  • [4] مطلب یہ ہے کہ کسی کو پیار سے بیٹا کہہ دینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اسی طرح ماں ، بیٹی ، بہن ،بھائی وغیرہ الفاظ میں بھی اگر کسی کے لیے محض اخلاقاً استعمال کر لیے جائیں تو کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اس ارادے سے یہ بات کہنا کہ جسے بیٹا یا بیٹی وغیرہ کہا جائے اس کو واقعی وہی حیثیت دے دی جائے جو اِن رشتوں کی ہے ، اور اس کے لیے وہی حقوق ہوں جو اِن رشتہ داروں کے ہیں ، اور اس دے ساتھ ویسے ہی تعلقات ہوں جیسے ان رشتہ داروں کے ساتھ ہوتے ہیں ، یہ یقیناً  قابلِ اعتراض ہے اور اس پر گرفت ہو گی۔