Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Saba — Ayah 16

34:16
فَأَعۡرَضُواْ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ سَيۡلَ ٱلۡعَرِمِ وَبَدَّلۡنَٰهُم بِجَنَّتَيۡهِمۡ جَنَّتَيۡنِ ذَوَاتَيۡ أُكُلٍ خَمۡطٖ وَأَثۡلٖ وَشَيۡءٖ مِّن سِدۡرٖ قَلِيلٖ ١٦
مگر وہ منہ موڑ گئے۔1 آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا2 اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاوٴ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں3
Footnotes
  • [1]  یعنی سیل العَرِم کے آنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا علاقہ برباد ہو گیا۔ سبا کے لوگوں نے پہاڑوں کے درمیان بند باندھ باندھ کر جو نہریں جاری کی تھیں وہ سب ختم ہو گئیں اور آب پاشی کا پورا نظام درہم برہم ہو گیا۔ اس کے بعد وہی علاقہ جو کبھی جنت نظیر بنا ہوا تھا خود رو  جنگلی درختوں سے بھر گیا اور اس میں کھانے کے قابل اگر کوئی چیز باقی رہ گئی تو وہ محض جھاڑی بوٹی کے بیر تھے۔
  • [2]  اصل میں لفظ سَیْلُ الْعَرِم  استعمال کیا گیا ہے۔ عَرِم جنوبی عرب کی زبان کے لفظ عرمن سے ماخوذ ہے جس کے معنی ’’بند‘‘ کے ہیں۔ یمن کے  کھنڈروں میں جو قدیم کتبات موجودہ زمانے میں دستیاب ہوئے ہیں ان میں یہ لفظ اس معنی میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ مثلاً 542ء یا 543ء کا ایک کتبہ جو یمن کے حبشی گورنر اَبرہہ نے سدّ مارِب کی مرمت کرانے کے بعد نصب کرایا تھا اور میں وہ اس لفظ کو بار بار بند کے معنی میں استعمال کرتا ہے۔ لہٰذا سیل العَرِم سے مراد وہ سیلاب ہے جو دسی بند کے ٹوٹنے سے آئے۔
  • [3]  یعنی بندگی و شکر گزاری کے بجائے انہوں نے نا فرمانی و نمک  حرامی کی روش اختیار کر لی۔