Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Saba — Ayah 19

34:19
فَقَالُواْ رَبَّنَا بَٰعِدۡ بَيۡنَ أَسۡفَارِنَا وَظَلَمُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَجَعَلۡنَٰهُمۡ أَحَادِيثَ وَمَزَّقۡنَٰهُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ ١٩
مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔1“ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا2۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو3
Footnotes
  • [1]  اس سیاق و سباق میں صابر و شاکر سے مراد ایسا شخص یا گروہ ہے جو اللہ کی طرف سے نعمتیں پاکر آپے سے باہر نہ ہو جائے، نہ خوشحالی پر پھولے اور نہ اس خدا کو بھول جائے جس نے یہ سب کچھ اسے عطا کیا ہے۔ ایسا انسان ان لوگوں کے حالات سے بہت کچھ   سبق لے سکتا ہے جنہوں نے عروج و ترقی کے مواقع پاکر نا فرمانی کی روش اختیار کی اور اپنے انجام بد سے دوچار ہو کر ہے۔
  • [2]  یعنی سبا کی قوم   ایسی منتشر ہو ئ کہ اس پرا گندگی ضرب المثل ہو گئی - آج بہی اہل عرب اگر کسی گروہ کے انتشار کا ذکر تے ہیں " تفر قوا ایدی سبا'" وہ تو ایسے پرا گندہ ہو گئے جیسے سبا کی قوم پر گندہ ہوئی تہی۔" اللہ تعالی کی طرف سے جب  زوال نعمت کا دور شروع ہوا تو سبا کے مختلف قبیلے اپنا وطن چہو ڑ چہو ڑ کر عرب کے مختلف علاقوں میں چلے گئے۔ غسانیوں نے اردن اور شام کا رُ خ کیا۔ اَوس و خز ر ج کے قبیلے یثرب میں جا بسے۔ خُز ا عہ نے جدے کے قریب تہامہ کے علاقہ میں سکونت اختیار کی۔ اَزد کا قبیلہ عمان میں جا کر آباد ہوا ۔ لحنم اور کندہ بہی نکلنے پر مجبور ہوۓ۔ حتی کہ " سبا " نام کی کوئی قوم ہی دنیا میں باقی نہ رہی۔ صرف اس کا ذکر افسانوں میں رہ گیا۔
  • [3]  ضروری نہیں ہے کہ انہوں زبان ہی سے یہ دعا کی ہو۔ دراصل جو شخص بھی خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی باشکری کرتا ہے وہ گویا زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ خدایا، میں ان نعمتوں مستحق نہیں ہوں۔ اور اسی طرح جو قوم اللہ کے فضل سے غلط فائدہ اٹھاتی ہے وہ گویا اپنے رب سے یہ دعا کرتی ہے کہ اے پروردگار، یہ نعمتیں ہم سے سلب کر لے کیونکہ ہم ان کے قابل نہیں ہیں۔            علاوہ بریں رَبَّنَا بَا عِدْ بَیْنَ اَسْفَا رِنَا (خدایا ہمارے سفر دور دراز کر دے ) کے الفاظ سے کچھ یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ شاید سبا کی قوم کو اپنی آبادی کی کثرت کھَلنے لگی تھی اور دوسری نادان قوموں کی طرح اس نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرہ سمجھ کر انسانی نسل کی افزائش کو روکنے کی کوشش کی تھی۔