Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Saba — Ayah 41

34:41
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ ٤١
تو وہ جواب دیں گے”پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہےنہ کہ اِن لوگوں سے1۔ دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے2۔“
Footnotes
  • [1]  اس فقرے میں جِن سے مراد شیاطینِ جِن ہیں۔ فرشتوں کے اس جواب کا مطلب  یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ہمارے نام لے کر، اور اپنے تخیلات کے مطابق ہماری صورتیں بنا کر گویا ہماری عبادت کرتے تھے، لیکن دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ شیا طین کی بندگی کر رہے تھے، کیونکہ شیاطین ہی نے ان کو یہ راستہ دکھایا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا حاجت روا سمجھو اور ان کے آگے نذر و نیاز پیش کیا کرو۔ یہ آیت صریح طور پر ان لوگوں کے خیال کی غلطی واضح کر دیتی ہے جو ’’جن‘‘ کو پہاڑی علاقے علاقے کے باشندوں یا دہقانوں اور صحرائیوں کے معنی میں لیتے ہیں۔ کیا کوئی  صاحب عقل آدمی اس آیت کو پڑھ کر یہ تصوّر کر سکتا ہے کہ لوگ کوہستانی اور  صحرائی اور دیہاتی آدمیوں کی عبادت کیا کرتے تھے اور انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے            اس آیت سے عبادت کے بھی ایک دوسرے مفہوم پر روشنی پڑتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت صرف پرستش اور ہو جا پاٹ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ کسی کی حکم پر چلنا اور اس کی بے چون و چرا اطاعت کرنا بھی عبادت ہی ہے۔ حتٰی کہ اگر آدمی کسی پر لعنت بھیجتا ہو(جیسا کہ شیطان پر بھیجتا ہے ) اور پھر بھی پیروی اسی کے طریقے کیکیے جا رہا ہو تب بھی وہ اس کی عبادت کا مرتکب ہے۔ اس کی دوسری مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، ص 398۔ 484۔ جلد دوم، ص 189۔190۔ جلد سوم،ص 69۔ 656۔
  • [2] یعنی وہ جواب دیں گے کہ حضور کی ذات اس سے منزّہ اور بالا تر ہے کہ کوئی دوسرا خدائی و معبودیت میں آپ کا شریک ہو۔ ہمارا ان لوگوں سے کوئی واسطہ نہیں۔ ہم ان سے اور ان کے افعال سے بری الذمّہ ہیں۔ ہم تو حضور کے بندے ہیں۔