Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi

Ayah by Ayah

Tags

Download Links

Tafheem e Qur'an - Syed Abu Ali Maududi translation for Surah Sad — Ayah 4

38:4
وَعَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٞ مِّنۡهُمۡۖ وَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا سَٰحِرٞ كَذَّابٌ ٤
اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجّب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا۔1 منکرین کہنے لگے کہ ”یہ ساحِر ہے2 ، سخت جھُوٹا ہے
Footnotes
  • [1]  حضورؐ کے لیے ساحر کا لفظ وہ لوگ اس معنی میں بولتے تھے کہ یہ شخص کچھ ایسا جادو کرتا ہے جس سے آدمی دیوانہ ہو کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے ۔ کسی تعلق کے کٹ جانے اور کوئی نقصان پہنچ جانے کی پروا نہیں کرتا۔ باپ کو بیٹا اور بیٹے کو باپ چھوڑ بیٹھتا ہے ۔بیوی شوہر کو چھوڑ دیتی ہے اور شوہر بیوی سے جدا ہو جاتا ہے ۔ ہجرت کی نوبت آئے تو دامن جھاڑ کر وطن سے نکل کھڑا ہوتا ہے ۔ کاروبار بیٹھ جائے اور سارے برادری بائیکا ٹ کر دے تو اسے بھی گوارا کر لیتا ہے ۔سخت جسمانی اذیتیں بھی انگیز کر جاتا ہے ، مگر اس شخص کا کلمہ پڑھنے سے کسی طرح باز نہیں آتا۔ (مرید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن  جلد سوم، ص 145۔146)۔
  • [2] یعنی یہ ایسے احمق لوگ ہیں کہ جب ایک دیکھا بھا لا آدمی خود ان کی اپنی جنس، اپنی قوم اور اپنی ہی برادری میں سے ان کو خبردار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی۔ حالانکہ عجیب بات اگر ہوتے تو یہ ہوتی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے آسمان سے کوئی اور مخلوق بھیج دی جاتی، یا ان کے درمیان یکایک ایک اجنبی آدمی کہیں باہر سے آ کھڑا ہوتا اور نبوت کرنا شروع کر دیتا۔ اس صورت میں تو بلاشبہ یہ لوگ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ عجیب حرکت ہمارے ساتھ کی گئی ہے ، بھلا جو انسان ہی نہیں ہے وہ ہمارے حالات اور جذبات اور ضروریات کو کیا جانے گا کہ ہماری رہنمائی کر سکے ، یا جو اجنبی آدمی اچانک ہمارے درمیان آگیا ہے اس کی صداقت کو آخر ہم کیسے جانچیں اور کیسے معلوم کریں کہ یہ بھروسے کے قابل آدمی ہے یا نہیں ، اس کی سیرت و کردار کو ہم نے کب دیکھا ہے کہ اس کی بات کا اعتبار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کر سکیں ۔